منگل, مارچ 31, 2026
ہوماہم خبریںپاکستان کو تنازع میں گھسیٹے جانے کا خدشہ؛ چین کا امریکا اور...

پاکستان کو تنازع میں گھسیٹے جانے کا خدشہ؛ چین کا امریکا اور اسرائیل سے جنگ روکنے کا مطالبہ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان اور چین نے سرگرم سفارت کاری کا آغاز کر دیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اپنے چینی ہم منصب وانگ ای سے ملاقات کے لیے چین پہنچے ہیں تاکہ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق، چینی وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں جنگی فریقین بالخصوص امریکا اور اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی فوجی کارروائیاں بند کریں۔ چین نے جنگ کے دوران تاریخی مقامات کو پہنچنے والے نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور ایٹمی تنصیبات پر حملوں کی سخت مخالفت کی ہے۔

اس جنگ نے جہاں انسانی جانوں کا ضیاع کیا ہے وہیں عالمی معیشت کو بھی روزانہ اربوں ڈالر کا نقصان پہنچ رہا ہے اور دنیا توانائی کے شدید بحران کی لپیٹ میں ہے۔

ایران کی جانب سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر ڈرون اور میزائل حملوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، تاہم اب تک ان ممالک نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

پاکستان کے سابق ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید، جو پاک فوج کے دوسرے بڑے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے اب تک بہت صبر سے کام لیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ سے گفتگو میں کہ اہے کہ اگر سعودی عرب نے فوجی جواب دیا تو وہ اکیلا نہیں ہوگا، بلکہ اس سے پورا خطہ آگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

پاکستان کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ 2025 میں اس نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا تھا۔

حال ہی میں وزیراعظم پاکستان نے سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات میں یقین دلایا ہے کہ پاکستان ہر مشکل گھڑی میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایران کی جانب سے دباؤ بڑھا تو پاکستان کو اپنے اتحادی کے دفاع کے لیے میدان میں آنا پڑ سکتا ہے۔

واشنگٹن میں مڈل ایسٹ پالیسی کونسل کے سینئر ریزیڈنٹ فیلو کامران بخاری کے مطابق ایران کے لیے اس وقت سب سے کم مسائل والا اسٹریٹیجک تعلق پاکستان کے ساتھ ہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت مذاکرات کے لیے پاکستان کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں اسحاق ڈار سے ملاقاتیں کی ہیں۔

اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات جلد ممکن ہو سکتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب ایران کا موقف قدرے مختلف نظر آتا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ پاکستان جو علاقائی ممالک کے اجلاس بلا رہا ہے وہ ان کا اپنا ڈیزائن کردہ فریم ورک ہے جس میں ایران شریک نہیں ہوا۔

ان کے مطابق ایران کی پہلی ترجیح اس وقت اپنی حفاظت کرنا ہے۔

ایران کے ایک سینیئر سیکیورٹی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ یہ ہماری جنگ ہے اور ہم تب تک دفاع نہیں روکیں گے جب تک ٹرمپ اور نیتن یاہو کو تاریخی سبق نہ سکھا دیں۔

اس پیچیدہ صورتحال میں جہاں یمن کے حوثی باغی بھی اسرائیل پر میزائل داغ رہے ہیں اور امریکا مزید فوج بھیج رہا ہے، پاکستان اور چین کی امن کوششیں عالمی استحکام کے لیے انتہائی ناگزیر ہو چکی ہیں۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے