اسلام آباد:
وزیراعظم کو یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے فون کیا اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے ساتھ ساتھ پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایران اور خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی اور اس کے عالمی معیشت پر اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس بحران کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے یورپی کونسل کے صدر کو مشرق وسطیٰ کے بحران میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں سے متعلق تازہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔
یورپی کونسل کے صدر نے پاکستان کی امن کوششوں کی تائید کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ یورپی یونین خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے تمام سفارتی اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔
پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ان تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ ماہ برسلز کا ان کا طے شدہ دورہ مؤخر ہو گیا تھا۔
یورپی کونسل کے صدر نے کہا کہ وہ باہمی طور پر طے شدہ تاریخوں پر وزیراعظم کا برسلز میں خیرمقدم کرنے کے منتظر ہیں۔
جی ایس پی پلس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ 28-29 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے پہلے پاکستان-یورپی یونین بزنس فورم کا افتتاح کرنے کے منتظر ہیں۔
وزیراعظم نے یورپی کمیشن کی صدر محترمہ ارسلا وان ڈیر لیئین کے لیے اپنی نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔
اپنے بیان میں صدر یورپی کونسل نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم سے تعمیری ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، بات چیت میں ایران جنگ کے حوالے سے اہم پیش رفت اور مصری، سعودی، ترکیے اور پاکستانی وزیر خارجہ کی اسلام آباد میں اہم ملاقات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔
صدر یورپی کونسل نے کہا کہ یورپی کونسل کو ایران جنگ کے عالمی ممالک پر اثرات پر سخت تشویش ہے، پاکستان کو اس کی امن کی کوششوں کے لیے نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں،
صرف مکالمہ اور سفارت کاری ہی مشرقِ وسطیٰ میں اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مکمل احترام کے ساتھ امن اور استحکام بحال کر سکتے ہیں۔

