وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم یہ الزام لگا کر مزید جھوٹ بول رہے ہیں کہ پاکستان نے کابل میں منشیات بحالی کے اسپتال کو نشانہ بنایا۔
اپنے بیان میں وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کا یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے، پاکستان دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ میں صرف عسکری اور دہشت گرد اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان افغان طالبان رجیم کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، ان مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں جو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری میں استعمال ہوتے ہیں۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ کابل اور ننگرہار میں 16 مارچ کی رات کیے گئے حملے پیشہ ورانہ تھے، کوئی اسپتال یا کوئی منشیات کے مریضوں کی بحالی کا مرکز اور کسی شہری سہولت کی عمارت کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
انھوں نے کہا کہ اہداف میں فوجی اور دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ تھا جس میں گولہ بارود اور تکنیکی آلات ذخیرہ کرنے کی جگہیں شامل ہیں، تمام 6 حملوں کو فوری طور پر وزارت اطلاعات کی طرف سے فوٹیج کیساتھ میڈیا کو فراہم کیا گیا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ فراہم کردہ ویڈیوز اور تصاویر میں شک کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جاتی، کابل میں آگ کے شعلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ گولہ بارود کے ذخیرہ کو نشانہ بنایا گیا۔
انھوں نے کہا موجودہ پروپیگنڈا ایسی حکومت کی طرف سے آ رہا ہے جس کے عہدیداران نے بار بار دروغ گوئی کی، افغان طالبان رجیم گمراہ کرنے اور سچائی کو چھپانے کیلیے پرانی تصویریں استعمال کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا پاکستان، خطے اور دنیا کو افغان طالبان رجیم کے زیراثر علاقے سے دہشت گردی کے سنگین خطرے کا سامنا ہے، منشیات کےعادی افراد اور معصوم بچوں کا خودکش بم حملوں سمیت گھناؤنے مقاصد کیلیے استحصال کیا جا رہا ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے دفاع کیلئے ہر ضروری اقدام کرے گا، سرحد پار سے پاکستان کیخلاف دہشت گردی کرنے والوں کو محفوظ پناہ گاہوں سے محروم کریں گے۔

