اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ افغانستان کی دراندازی کا پاکستانی مسلح افواج نے بہترین جواب دیا، دہشتگردوں کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ ٹھیک ہوجائیں، دہشتگرد اگر اپنی کارروائیوں سے باز نہیں آتے تو انہیں ختم کردیا جائے گا۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایوان میں پاس ہونے والی قرارداد کا مطلب ہے پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے، معرکہ حق کے موقع پر بھی پوری قوم نے مسلح افواج پر اعتماد کیا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دوحہ میں کئی ہفتوں مذاکرات ہوئے، ڈیورنڈ لائن کی نگرانی کیلئے دوست ممالک پر مشتمل کمیشن بنانے کی تجویز دی گئی تھی، آج کا پیغام یہ ہے کہ پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سیاسی معاملات کو میز پر بیٹھ کر سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر حل کرنا چاہئے، ہماری طرف سے کوشش ہوتی رہی ہے لیکن انکار دوسری طرف سے ہوتا رہا ہے، 2018میں جس کیلئے ارینج منٹ ہوا، اس ارینج منٹ کیلئے اب بھی پوری تیاری ہے لیکن وہ ارینج منٹ آگے سے نا ملے تو وہ ان کی مرضی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے تین مرتبہ آپ کو مذاکرات کی دعوت دی ہے لیکن آپ نے جواب نہیں دیا، ڈاکٹرز ہونے چاہئیں، علاج ہونا چاہئے اس پر بیٹھ کر بات ہوسکتی ہے۔
اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ناصر عباس نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کی جنگ کو ختم کرنے کا ایک راستہ جنگ ہے دوسرا رستہ بات چیت ہے وہ بھی کی جائے، ہمسایوں کی دشمنیاں خطرناک ہوتی ہیں۔
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ریجنل سیکورٹی فریم ورک بہت ضروری ہے، ہمیں متعلقہ ممالک کو بلاکر کانفرنس کرکے ریجنل فریم ورک کرنا ہوگا، داخلی طورپر عوامی حمایت فوج کے ساتھ ہونی چاہئے۔ موجودہ جنگ کے حوالے سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہونا چاہئے۔ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ مشترکہ اجلاس بلاکر صورتحال بتائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں بانی پی ٹی آئی قوم کو اکٹھا کرسکتے ہیں، قومی اسمبلی اور سینٹ کے اراکین کے چار٫چار ممبران کو بانی پی ٹی آئی سے ملوا دیں، کیا ہم عوام کو بالکل ڈی ٹیچ رکھ کر یہ جنگ جیت سکتے ہیں، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلاکر اس سیاسی مسئلے کا حل ہوسکتا ہے
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر نہیں آنا چاہتے، بانی پی ٹی آئی نے کہا دعا کریں میں شہید ہوجاؤں ، وہ پاکستان سے باہر نہیں جانا چاہتا لیکن بہتر علاج اس کا حق ہے۔

