محکمہ آبپاشی کی قیمتی گاڑیوں اور بھاری مشینری کو مبینہ طور پر کوڑیوں کے دام نیلام کرنے کے کیس میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے ایک اور ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔
اینٹی کرپشن بلوچستان نے سرکاری املاک کو مبینہ طور پر سستے داموں نیلام کرکے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کے اہم کیس میں کارروائی کرتے ہوئے محکمہ آبپاشی کے ڈیٹا انٹری آپریٹر کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ہے.
اینٹی کرپشن حکام کے مطابق ملزم آغا محمد ڈی جی پبلک ریلیشنز آفس کوئٹہ میں تعینات تھا.
ذرائع کے مطابق محکمہ آبپاشی کی قیمتی سرکاری گاڑیوں اور بھاری مشینری کی نیلامی میں مبینہ بے ضابطگیوں اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اینٹی کرپشن بلوچستان نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے.
اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ سرکاری گاڑیوں اور بھاری مشینری کو مبینہ طور پر انتہائی کم قیمت پر نیلام کیا گیا، جس کے باعث سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا.
تحقیقات کے دوران یہ اہم بات بھی سامنے آئی کہ نیلامی کا اشتہار مبینہ طور پر جان بوجھ کر ملک کے معروف اور وسیع الاشاعت اخبارات میں شائع نہیں کرایا گیا، جس کے باعث عام بولی دہندگان کو نیلامی کے عمل سے لاعلم رکھا گیا۔
حکام کے مطابق مبینہ طور پر من پسند افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے نیلامی کے عمل کو محدود رکھا گیا. اینٹی کرپشن بلوچستان کے مطابق اس کیس میں اس سے قبل جیولوجسٹ اور ڈپٹی ڈائریکٹر طلحہ بگٹی کو بھی گرفتار کیا جاچکا ہے، جبکہ مقدمے میں ملوث دیگر افسران اور متعلقہ افراد کو بھی طلب کرلیا گیا ہے.
حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات مزید تیزی سے جاری ہیں اور نیلامی کے پورے عمل کا ریکارڈ، متعلقہ دستاویزات اور ذمہ دار افراد کے کردار کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اینٹی کرپشن بلوچستان کے انویسٹی گیشن آفیسر عزیز احمد کیس کی تفتیش کر رہے ہیں، جبکہ ابتدائی تحقیقات ڈپٹی ڈائریکٹر فرید سخی اور شیخ منیر مندوخیل نے کی تھیں.
اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق تحقیقات میں مزید اہم پیش رفت اور دیگر گرفتاریوں کا بھی امکان ہے، جبکہ سرکاری املاک کی نیلامی میں مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث کسی بھی ذمہ دار شخص کو قانون کے دائرے سے باہر نہیں جانے دیا جائے گا.

