اسلام آباد: وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سرائیکی صوبےکی بات ہو توپیپلز پارٹی نرم گوشہ ظاہر کرتی ہے اور جب چار کی جگہ مزید صوبوں یا انتظامی یونٹوں کی بات ہوتی ہے تو سندھو دیش کی بات شروع ہو جاتی ہے۔
خواجہ محمد آصف نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی کی دو رخی پالیسی کے پیچھےکچھ اور دیکھتا ہوں، اختیارات کی منتقلی 18ویں ترمیم کے ذریعے طے ہوئی مگر عمل نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام کو اختیارات کے ارتکاز نے متروک بنادیا ہے، صوبے یا انتظامی یونٹ جو مرضی لیبل لگالیں، اختیارات کی منتقلی ناگزیر ہے۔
سرائیکی صوبےکی بات ہو توپیپلز پارٹی نرم گوشہ ظاہر کرتی ہے اورمزیدانتظامی یونٹوں کی بات ہو تو سندھو دیش کا ذکرشروع ہوجاتا ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ان کی جماعت مسلم لیگ ن سمجھتی ہے کہ اس وقت نئے صوبوں پر بات قبل از وقت ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کل اسمبلی میں ہونے والی تقاریر کو غیر ضروری قرار دیا۔
رانا ثنا نے کہا جو قرار داد سندھ اسمبلی نے منظورکی ویسی ہی قرار دادیں پہلے بھی منظور ہوچکی ہیں، صوبوں کے معاملے میں کل جو حدت اورشدت پیدا کی گئی وہ غیرضروری تھی، سندھ اسمبلی میں تقریرکے دوران قومی اسمبلی کو غیرضروری طورپرنشانہ بنایا گیا۔
رانا ثنا نے کہا پیپلزپارٹی سیاست میں رہنے کے لیے یہ سب کچھ کررہی ہے مگر یہ بات درست ہے کہ پیپلز پارٹی کی سیاست کے لیے سندھ کی تقسیم ایک انتہائی اہم معاملہ ہے۔

