سپریم کورٹ نے تعلیمی اداروں میں ہراسیت پرسخت مؤقف اپناتے ہوئےمحفوظ ماحول،مؤثرشکایتی نظام اور قانون پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ نے تعلیمی اداروں میں ہراسیت کے خلاف مؤثر نظام اور قانون پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئےکہا ہے کہ تعلیمی ادارے صرف درس گاہ نہیں بلکہ محفوظ ماحول بھی ہونے چاہییں۔
جسٹس محمد علی مظہر کےبارہ صفحات پرمشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہےکہ خواتین کی عزت، تحفظ اور خودمختاری ہر تعلیمی ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے،جبکہ جنسی ہراسیت کو برداشت کرنا تعلیمی مشن، قانون اور انسانی وقار کے منافی ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ تمام تعلیمی اداروں میں ہراسیت کے خلاف واضح پالیسی، مؤثر شکایتی نظام، قانون کے مطابق ان ہاؤس انکوائری کمیٹیاں اورضابطۂ اخلاق پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے،
فیصلہ فیصل آباد کے ایک اسپیشل ایجوکیشن سینٹر کی سابق ہیڈمسٹریس کی اپیل پرجاری کیا گیا، جس میں ہراسیت کی شکایات پر مؤثر کارروائی نہ کرنے کے معاملےکا بھی جائزہ لیا گیا۔

