جمعہ, جون 19, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںبجٹ میں نوجوانوں، تعلیم اور صحت کو نظرانداز کیا گیا، بلوچستان کو...

بجٹ میں نوجوانوں، تعلیم اور صحت کو نظرانداز کیا گیا، بلوچستان کو اس کے وسائل کا حق دیا جائے: ہدایت الرحمٰن

انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری سمیت متعلقہ سیکرٹریز ایوان میں موجود نہیں، جس پر میں احتجاج کرتا ہوں۔ وزیراعلیٰ اس معاملے کا نوٹس لیں کیونکہ بجٹ بحث کے دوران سیکرٹریز کی موجودگی ضروری ہے۔

ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ گوادر کے مسائل کے حل کے لیے وزیراعلیٰ نے ہمیشہ تعاون کیا اور وہ گوادر کے عوام کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گوادر کے 313 اسکول فعال ہیں، جبکہ صحت کے 54 مراکز میں سے 10 تاحال بند ہیں۔ میرانی ڈیم سے گوادر کے عوام کو پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف عمارتیں اور سڑکیں بنانے سے ترقی نہیں ہوتی۔ بلوچستان میں 58 فیصد بچے تعلیم سے محروم ہیں اور تقریباً 30 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ زچگی کے دوران شرحِ اموات سب سے زیادہ بلوچستان میں ہے، جبکہ 11 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے 80 فیصد لوگ صاف پینے کے پانی سے محروم ہیں، جبکہ 89 فیصد آبادی گیس کی سہولت سے بھی محروم ہے۔ بلوچستان کی 60 فیصد سڑکیں خراب اور 78 فیصد کچی ہیں۔

ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ 65 لاکھ نوجوانوں کے لیے بجٹ میں صرف 5 ہزار ملازمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام آباد کے حکمران بلوچستان کو صوبہ نہیں بلکہ کالونی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سی پیک کا معاہدہ بلوچستان کی وجہ سے ہوا، مگر سی پیک کے پہلے مرحلے میں بلوچستان کو کیا ملا؟ یہاں موٹرویز اور بجلی گھر کیوں نہیں بنائے گئے؟ لاہور میں اورنج لائن ٹرین پر 260 ارب روپے اور موٹرویز پر 5 ہزار ارب روپے خرچ کیے گئے، جبکہ بلوچستان کے لیے کتنا سرمایہ مختص کیا گیا؟

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کو سی پیک، ریکوڈک، گیس اور دیگر قدرتی وسائل میں اس کا جائز حق دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں بیوروکریسی میں بدعنوانی موجود ہے اور ترقیاتی منصوبوں کے بلوں پر ایکسین سے لے کر سیکرٹری تک کمیشن کا نظام چلتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف اراکین اسمبلی کو رہائش کی سہولت میسر نہیں، جبکہ دوسری جانب آتش بازی اور ٹی بریکس پر کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، جب کہ عوام بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔

ہدایت الرحمٰن نے مزید کہا کہ پی ایس ڈی پی میں کئی اہم منصوبے شامل نہیں کیے جاتے۔ بجٹ میں تقریبات اور جشنوں کے لیے فنڈز موجود ہیں، مگر غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خاطر خواہ وسائل مختص نہیں کیے جاتے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بلوچستان میں کمیشن کی مد میں کتنی رقم خرچ ہوتی ہے اور اس کی شرح کیا ہے؟

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے