غزہ سٹی میں اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے سینئر رہنما اور مذاکرات کار خلیل الحیہ کے بیٹے عزام الحیہ شہید ہوگئے۔
حماس کے سینئر عہدیدار باسم نعیم کے مطابق بدھ کے روز غزہ سٹی میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں عزام الحیہ جان سے گئے۔ وہ خلیل الحیہ کے چوتھے بیٹے ہیں جو اسرائیلی حملوں میں مارے گئے۔
ذرائع کے مطابق اسی حملے میں ایک اور شخص بھی جاں بحق ہوا، جبکہ غزہ کے مختلف علاقوں میں جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں مزید ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
خلیل الحیہ، جو حماس کے جلاوطن غزہ چیف اور اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اس سے قبل بھی متعدد حملوں میں اپنے بیٹوں سے محروم ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان کے دو بیٹے 2008 اور 2014 کی غزہ جنگوں کے دوران مارے گئے تھے، جبکہ ایک بیٹا گزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس قیادت کو نشانہ بنانے کی کارروائی میں ہلاک ہوا تھا۔
حماس رہنما طاہر النونو نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عزام الحیہ کو نشانہ بنانا ’’اخلاقی اور انسانی گراوٹ کی انتہا‘‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملے مزاحمت کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط کرتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ بدھ کے روز بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں کارروائی کے دوران حزب اللہ کی رضوان یونٹ کے کمانڈر احمد بلوت کو ہلاک کردیا گیا۔
اسرائیل کے مطابق اسی حملے میں ناصر یونٹ کے انٹیلی جنس سربراہ محمد علی بازی اور فضائی دفاعی مبصر حسین حسن رومانی بھی مارے گئے۔
حزب اللہ کی جانب سے ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

