کوئٹہ:پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی مرکزی کال پر 3 نومبر 2007 کے ایمرجنسی ،ملک میں میڈیا داروں سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں سمیت بلوچستان میں بیورو دفاتر کی بندش ، تنخواہوں کی عدم۔ادائیگی اور تاخیر سے اداگیوں کے خلاف بلوچستان بھر میں احتجاجی تحریک کا آغاز ، صوبے کے مختلف اضلاع میں یوم سیاہ کے موقع پر پریس کلبز پر سیاہ جھنڈے لہرا دیے گئے جبکہ احتجاجی مظاہروں کے بھی آغاز کردیا گیا ۔ خضدار میں پی ایف ہو جے کی مرکزی کال پر خضدار پریس کلب سامنے صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا صحافیوں نے ہاتھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا جبکہ پریس کلب خضدار پر سیاہ پرچم لہرایا گیا، صحافیوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (BUJ) کی کال پر ملک بھر کی طرح ضلع چاغی کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر دالبندین پریس کلب میں سیاہ جھنڈا لہرادیا گیااس موقع پر دالبندین پریس کلب کے صدر حاجی فاروق سیاہ پاد رند نے کہا،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا کہ میڈیا اداروں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں کا سلسلہ فوری بند کیا جائے اور برطرف کیے گئے تمام ملازمین کو دوبارہ بحال کیا جائے۔مطالبات میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ، تنخواہوں اور واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے، پیکا ایکٹ میں صحافتی تنظیموں اور میڈیا کی مشاورت سے ترامیم کرنے اور اس کے غلط استعمال کو روکنے پر زور دیا گیا۔چارٹر آف ڈیمانڈ میں آزادی صحافت پر عائد پابندیوں اور کالے قوانین کے خاتمے، پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے، بلوچستان میں ٹی وی چینلز کے بند کیے گئے بیورو دفاتر بحال کرنے اور آئین کے تحت آزادی اظہارِ رائے کے حق کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ڈیوٹی کے دوران صحافیوں کے تحفظ، ان پر تشدد کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور متاثرہ صحافیوں کو انصاف کی فراہمی پر زور دیا گیا۔ضلع ژوب میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (BUJ) کی کال پر ژوب پریس کلب کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں صحافیوں اور تاجر برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مظاہرے کے شرکا نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر پیکا ایکٹ، صحافیوں کی جبری برطرفیوں اور میڈیا ورکرز کے معاشی استحصال کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے آزادی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر پریس کلب کے صدر رفیق مندوخیل، سینئر صحافیوں عبدالصمد مندوخیل، اختر گل، رفیق بلوچ جبکہ تاجر تنظیموں کے رہنماں باران خان کلیوال، عبدالغنی شیرانی، عبدالرحمن شیرانی اور محمد دین خروٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ کا نفاذ، میڈیا ورکرز کی جبری برطرفی، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کوئٹہ میں بیورو آفسز کی بندش کسی صورت قبول نہیں۔ مقررین نے کہا کہ آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے، صحافیوں کو دبا اور خوف کے بغیر اپنے فرائض انجام دینے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ پیکا ایکٹ کے ذریعے آزادی اظہار پر قدغنیں لگانے کے بجائے صحافیوں کے تحفظ اور آزادی صحافت کو یقینی بنایا جائے۔احتجاجی تحریک اور یوم سیاہ کے سلسلے میں کوئٹہ میں 2 بجے احتجاج دھرنے کا آغاز ہوگا ۔ جبکہ تربت ،چمن ،جعفر آباد ، سبی سمیت دیگر اضلاع میں بھی پریس کلبز پر سیاہ جھنڈے لہرانے کے ساتھ احتجاجی مظاہرے ہوں گے ۔

