واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ
اوستا محمد: جمعیت علماءاسلام کے مرکزی رہنما و سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ نے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کی اسلام آباد میں واقع نجی رہائش گاہ کی مبینہ طور پرڈرون فوٹیج بنانے اور اسے نشر کرنے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی شہری کی نجی رہائش گاہ کی بلااجازت فضائی نگرانی اور ریکارڈنگ چادر و چار دیواری کے تقدس شہری آزادیوں اور آئینی حقوق پر سوالیہ نشان ہے۔ آزادیِ صحافت کسی کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ صحافتی ذمہ داریوں کی حدود عبور کرتے ہوئے کسی کے گھر کی نجی زندگی کو نشانہ بنائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آئی این پی اوستہ محمد کے نمائندہ محمد رفیق پندرانی سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے حافظ حمد اللہ نے کہا کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صرف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہی نہیں بلکہ ملک کی ایک اہم قومی و سیاسی شخصیت ہیں تاہم ان کی سیاسی حیثیت سے قطع نظر ان کی نجی رہائش گاہ اور گھریلو زندگی کا احترام آئینی قانونی اور اخلاقی تقاضا ہے۔ کسی بھی شہری کے گھر کی حرمت اور نجی زندگی کا تحفظ ریاست اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ صحافت ایک ذمہ دارانہ پیشہ اور جمہوری معاشرے کا اہم ستون ہے لیکن آزادیِ اظہار اور آزادیِ صحافت کو کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 14 ہر شہری کی عزتِ نفس اور گھر کی حرمت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا اس واقعے کو محض ایک میڈیا سرگرمی قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے تمام قانونی اور اخلاقی پہلووں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔حافظ حمد اللہ نے کہا کہ ماضی میں جب محترمہ مریم نواز کی نجی زندگی اور رہائش گاہ کی پرائیویسی کا معاملہ سامنے آیا تھا تو مولانا فضل الرحمٰن نے ان کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے نجی زندگی کے احترام کی حمایت کی تھی۔ آج حکمرانوں اور متعلقہ اداروں سے بھی توقع ہے کہ وہ اسی اصولی طرزِ عمل کا مظاہرہ کریں گے۔ جمہوری معاشرے میں حقوق کا تحفظ شخصیات سیاسی وابستگیوں اور اقتدار کے پیمانوں سے مشروط نہیں ہونا چاہیے بلکہ قانون کا یکساں اطلاق ہر شہری کے لیے یقینی بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے چینل آزاد کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے پر فوری طور پر اپنا واضح موقف پیش کرے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن سے غیرمشروط معافی مانگے اور متعلقہ حکام واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں۔ اگر تحقیقات میں کسی قسم کی قانونی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داران کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ کسی کو بھی کسی شہری کی نجی زندگی اور گھریلو حرمت کی پامالی کی جرات نہ ہو۔ حافظ حمد نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ چادر و چار دیواری کا تحفظ کسی ایک سیاسی جماعت یا شخصیت کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے بنیادی حقوق سے وابستہ ہے۔ آج اگر کسی قومی سیاسی رہنما کی نجی رہائش گاہ کے تقدس کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا تو عام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں۔حافظ حمد اللہ نے خبردار کیا کہ اگر متعلقہ حکام نے واقعے کا نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی نہ کی اور چینل انتظامیہ نے معذرت اختیار نہ کی تو جمعیت علماءاسلام اپنے آئینی اور جمہوری حقِ احتجاج کو استعمال کرتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی نجی رہائش گاہ کے تقدس کا معاملہ کسی سیاسی مفاد سے بالاتر ہو کر آئین شہری آزادیوں، انسانی وقار اور قانون کی بالادستی سے جڑا ہوا ہے۔

