بدھ, اکتوبر 28, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںمولانا فضل الرحمٰن کی قومی اسمبلی میں تقریر کی مبینہ بلیک آوٹ...

مولانا فضل الرحمٰن کی قومی اسمبلی میں تقریر کی مبینہ بلیک آوٹ جمہوری اقدار اور آزادی اظہار پر حملہ ہے، سینیٹر مولانا عبدالواسع

کوئٹہ: جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے قومی اسمبلی میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر کی مبینہ بلیک آوٹ اور براہِ راست نشریات کے دوران آواز بند کیے جانے پر سخت برہمی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار، آزادی اظہار اور پارلیمانی روایات کے منافی قرار دیا ہے۔جاری کردہ بیان کے مطابق سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کی دلیل کی قوت اتنی روشن ہے کہ طاقت ان کا سامنا کرنے سے قاصر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موثر سیاسی موقف اور دلیل کا جواب بلیک آوٹ کے ذریعے دینا جمہوری روایات کے منافی ہے اور اس طرح کے اقدامات آزادی اظہار کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتے ہیں۔صوبائی امیر جے یو آئی بلوچستان نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کا نام لیے جانے کے فوراً بعد آواز بند ہونے اور قومی اسمبلی کی لائیو کوریج رکنے کے معاملے پر شدید تشویش ہے۔ پارلیمان عوامی نمائندگی کا سب سے بڑا فورم ہے، جہاں منتخب نمائندوں کو اپنا موقف پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ قائد جمعیت کی آواز دبانے کی کوشش سے ان کا موقف عوام تک پہنچنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کو برداشت کرنا اور سیاسی رہنماوں کو اپنا نقط? نظر بیان کرنے کا موقع دینا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی میں تقریر کی نشریات روکنے اور آواز بند ہونے کے معاملے پر قوم کو واضح وضاحت دی جائے، کیونکہ پارلیمان میں ہونے والی کارروائی عوامی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور اس کی شفاف کوریج جمہوری نظام کا لازمی حصہ ہے۔جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے صوبائی امیر نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات کا جواب دلیل، مکالمے اور جمہوری طرزِ عمل سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ کسی رہنما کی آواز عوام تک پہنچنے سے روک کر۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!