وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کے لیے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہے، علی بابا سے زرعی شعبے میں آٹومیشن کے حوالے سے تعاون خوش آئند ہے، علی بابا کے تعاون سے کینسر کی پیشگی تشخیص کے نظام کا اطلاق بھی جلد یقینی بنایا جائے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت معیشت اور گورننس میں مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیجیٹائیزیشن اور اس حوالے سے علی بابا کے ساتھ تعاون کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس ہوا۔
اجلاس کو حکومتِ پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کے تحت مختلف شعبوں میں جاری پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ زراعت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلز، تمباکو کی ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکنالوجی اور سٹرس پھلوں و زیتون کی برآمدات کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر کام جاری ہے۔ مزید برآں علی بابا پر پاکستانی مصنوعات کی برآمدات کیلئے خصوصی ویب سائٹ پر خصوصی پاکستان پویلین قائم کر دیا گیا ہے.
پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے تجارتی دستاویزات کی ڈیجیٹل تصدیق کا نظام فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ ایس ایم ایز ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور علی بابا کے اشتراک سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی، تربیت اور ای کامرس کے مواقع فراہم کرنے کے لیے دو سالہ پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں ایف بی آر اور پرال کے لیے جدید ڈیٹا پلیٹ فارم اور سینٹرل ڈیٹا ہب کی تیاری اور صحت کے شعبے میں اے آئی کی مدد سے کینسر کی تشخیص کے مجوزہ پائلٹ منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ توانائی کے شعبے میں اوگرا کو ایندھن کی سپلائی چین کے ڈیٹا کے تجزیے کے لیے مصنوعی ذہانت اور بزنس انٹیلی جنس ٹولز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح اعلیٰ تعلیم، ریلوے، پوسٹل سروس اور شہری انتظام کے شعبوں میں بھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق اقدامات تکمیل کے مراحل میں ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اونگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، سید مصطفی کمال، عبد العلیم خان، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال پاکستان میں تجارت، برآمدات، زرعی پیداوار، کاروباری سہولت اور سرکاری خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار کا حامل ہے، علی بابا کی جانب سے پاکستان کی زرعی اجناس کی برآمد کیلئے چینی مارکیٹس میں برآمد کیلئے تعاون خوش آئند ہے۔
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ملکی ترقی کیلئے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہے، علی بابا سے زرعی شعبے میں آٹومیشن کے حوالے سے تعاون خوش آئند ہے، علی بابا کے تعاون سے کینسر کی پیشگی تشخیص کے نظام کا اطلاق بھی جلد یقینی بنایا جائے.
شہباز شریف نے کہا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت جاری پروگرام اگنائیٹ اور علی بابا کے تعاون سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں آئی ٹی گریجیویٹس کی 15 دن کی ٹریننگ کے پروگرام کو جلد شروع کیا جائے، اوگرا، علی بابا کے تعاون سے پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کی نگرانی کے حوالے سے انیالیٹیکس کا نظام جلد رائج کیا جائے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ایکسپورٹ پروموشن بورڈ علی بابا کے ساتھ مل کر ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے تعاون یقینی بنائے، اپنے دورہء چین کے دوران ہانگژو میں علی بابا ہیڈ کوارٹر میں ان کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، ملکی ترقی کا راز اے-آئی اور ڈیجیٹائیزیشن میں مضمر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ علی بابا اور حکومت پاکستان کے مابین اسٹریٹجک شراکت داری سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی اور ملک میں ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے.
انہوں نے کہا کہ علی بابا گروپ کے ساتھ تعاون کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے تمام منصوبوں پر واضح اہداف، مقررہ مدت اور مؤثر نگرانی کے ساتھ عملدرآمد یقینی بنایا جائے.وزیرِ اعظم نے متعلقہ وزارتوں کو نومبر تک تمام تر ضروری اقدامات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

