کوئٹہ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبے میں سیکیورٹی اور پولیسنگ کے نظام کو مزید موثر اور جدید بنانے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، پولیس اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات اور انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر خان نے سیکیورٹی صورتحال، پولیسنگ کے نظام، محکمانہ اصلاحات اور سیکیورٹی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں بلوچستان میں سیکیورٹی اور پولیسنگ کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کوئٹہ انٹیگریٹڈ سیکیورٹی پروجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ گرین ڈیجیٹل کوریڈور کے تحت شہر میں 2,900 کیمرے نصب کیے جائیں گے، جن کے ذریعے سیکیورٹی نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے گا بریفنگ میں بتایا گیا کہ پروجیکٹ کے تحت کوئیک رسپانس فورس کے نئے اسٹیشنز بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور موثر ردعمل کو یقینی بنایا جاسکے۔ جدید ٹیکنالوجی اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کے ذریعے سیکیورٹی اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا۔ اجلاس کو بلوچستان پولیس میں جاری اصلاحات اور محکمانہ خود احتسابی کے عمل سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ غیر حاضری اور فرائض میں غفلت کے مرتکب 871 پولیس اہلکاروں کو برطرف کیا جاچکا ہے، جبکہ مختلف شخصیات کے ساتھ تعینات 1,005 پولیس اہلکاروں کی خدمات واپس محکمہ پولیس کے حوالے کردی گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کا کردار انتہائی اہم ہے، پولیس اہلکار فرنٹ لائن پر ملک اور صوبے کے امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پولیس کو دہشت گردی کے موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید تربیت، ضروری آلات اور تمام مطلوبہ وسائل فراہم کیے جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیس کو دہشت گردی کے خلاف میدان میں اتارا ہے تو مکمل سرپرستی بھی کریں گے۔ صوبائی حکومت اپنی بہادر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور پولیس کی استعداد کار میں اضافے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پولیسنگ کے نظام میں اصلاحات کا مقصد ادارے کو مزید مضبوط، جوابدہ اور عوام دوست بنانا ہے۔ محکمانہ نظم و ضبط اور احتساب پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا جبکہ فرائض میں غفلت اور غیر حاضری کی حوصلہ شکنی کے ساتھ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے محدود وسائل کو بہتر انتظام اور ترجیحات کے تحت عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ غیر ترقیاتی اخراجات پر قابو پاکر دستیاب وسائل عوام کی بنیادی ضروریات اور فلاح و بہبود پر خرچ کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ ہم نے بلوچستان کے اس عام آدمی کے لیے کام کرنا ہے جو سردی میں ٹھٹھرتا اور گرمی میں جھلستا ہے۔ حکومت کی تمام پالیسیوں اور اقدامات کا محور عام شہری کا تحفظ، سہولت اور معیار زندگی بہتر بنانا ہے۔

