مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے انکشاف کیا ہے کہ میں مصنوعی ذہانت کے حفاظتی خطرات پر 2014ء سے بھی پہلے سے غور کر رہا ہوں۔
ایلون مسک نے بتایا ہے کہ میں نے مصنوعی ذہانت کے ماہر نک بوسٹروم کی کتاب ’سپر انٹیلیجنس‘ میں بھی تعاون کیا تھا اور کتاب کے دیباچے میں بوسٹروم نے میرا نام بطور معاون درج کیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ میں مصنوعی ذہانت کی حفاظت کے معاملے پر کئی برسوں سے سوچ رہا ہوں جبکہ اب یہ ٹیکنالوجی تیزی سے دنیا کی طاقت ور ترین ٹیکنالوجیز میں شامل ہوتی جا رہی ہے۔
ایلون مسک کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت سے لاحق سنگین خطرات پر بحث شدت اختیار کر رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں کے سربراہان سیم آلٹمین اور ڈیریو اموڈے نے بھی اس ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کو محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
دی نیوز انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی تشویش اب صرف اے آئی کے باعث روزگار ختم ہونے تک محدود نہیں رہی۔
بعض محققین نے خبردار کیا ہے کہ بے قابو مصنوعی ذہانت آئندہ ایک دہائی میں انسانیت کے وجود کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایلون مسک نے 2014ء میں بوسٹروم کی کتاب پڑھنے کے بعد خبردار کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے معاملے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور یہ جوہری ہتھیاروں سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
متعدد بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں مصنوعی ذہانت کو انسانی بقاء اور مفاد کے مطابق رکھنے کو موجودہ دور کا ایک انتہائی اہم چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

