کوئٹہ (این این آئی): گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ صوبے کی مجموعی شرحِ خواندگی میں 7 فیصد اضافہ اور 7 لاکھ 68 ہزار بچوں کو دوبارہ اسکولوں میں واپس لانا محکمہ تعلیم بلوچستان کی قابلِ فخر کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے تعلیمی پروگرام کے تحت بلوچستان بھر میں 10 دانش اسکولوں کے قیام سے تعلیمی انقلاب برپا ہوگا اور معیاری تعلیم کے فروغ سے نوجوان نسل کے روشن مستقبل کی راہ ہموار ہوگی۔
گورنر بلوچستان نے ہیلتھ کیئر اسکلز ٹریننگ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ٹاپ 10 لرنرز کے لیے 50،50 ہزار روپے نقد انعام دینے کا اعلان کیا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے حکومت بلوچستان، ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اسکولز اور یونیسف کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
گورنر جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ اسکلز ڈیولپمنٹ وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے، جبکہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کی جانب سے ہیلتھ اینڈ میڈیکل شعبوں میں مختلف ڈپلومہ پروگرامز کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش اور بھرپور کوشش ہے کہ کوئٹہ کے مضافات میں کچ روڈ کے قریب ایک ہزار بستروں پر مشتمل جدید اسپتال اور ایک ٹیکنیکل یونیورسٹی قائم کی جائے، جہاں نوجوانوں کو ہیلتھ کیئر، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر جدید شعبوں میں عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کی جائیں۔
گورنر نے کہا کہ اسکلز ڈیولپمنٹ کو تعلیمی نصاب کا باقاعدہ حصہ بنانا ضروری ہے تاکہ نوجوان نسل عملی صلاحیتوں اور جدید مہارتوں سے آراستہ ہو کر ملک و قوم کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکے۔
تقریب سے صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی اور وائس چانسلر ڈاکٹر شبیر لہڑی نے بھی خطاب کیا۔
بعد ازاں گورنر بلوچستان نے ہیلتھ کیئر اسکلز ٹریننگ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے ٹاپ 10 لرنرز میں سرٹیفکیٹس جبکہ منتظمین میں یادگاری شیلڈز تقسیم کیں۔

