وزیراعظم شہباز شریف نے رواں سال معاشی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال قرار دے دیا ۔ کہتے ہیں کاروباری برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی اور خدمات کا اعتراف کیا جائے گا۔ ایف بی آر کے سینئر افسران کو ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں کراچی کا دورہ کرنے کی ہدایت بھی کردی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت معاشی اصلاحات پر اجلاس میں ٹیکس نظام میں بہتری کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کاروباری افراد کو زیادہ پیداوار اور برآمدات کے فروغ کیلئے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔ ایف بی آر کاروباری طبقے کے ساتھ تعاون اور ان کے جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔
شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کاروباری برادری سے براہِ راست رابطہ رکھ کر ان کے مسائل بلاتاخیر حل کیے جائیں۔ حکومت کا مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنا، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا ہے ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور آسان بنانا ہے تاکہ کاروباری برادری کا اعتماد بڑھے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ شوگر، سیمنٹ، ٹوبیکو ، ٹائلز اور فرٹیلائزرز کی صنعتوں کی پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب ہو چکی۔ ٹیکسٹائل اور مشروبات کی صنعتوں کی پروڈکشن مانیٹرنگ کے نظام کی تنصیب کا عمل جاری ہے۔
پروڈکشن مانیٹرنگ کے ذریعے گزشتہ ایک سال کے دوران شوگر انڈسٹری میں 42 ارب روپے،سیمنٹ انڈسٹری میں 48 ارب اور بیوریجز انڈسٹری میں 15 بلین روپے کا اضافی ٹیکس اکٹھا جمع کیا گیا۔

