کوئٹہ: کوئٹہ پولیس نے ہاشم نورزئی قتل کیس میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریکارڈ وقت میں قتل میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ ملزمان کی نشاندہی پر آلۂ قتل بھی برآمد کر لیا گیا۔
ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت کے مطابق قتل کی واردات 16 کروڑ روپے کے مالی تنازع کا نتیجہ تھی، جہاں ایک دوست نے اپنے ہی دوست کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔
پولیس کے مطابق مرکزی ملزم حکمت اللہ نے اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ ہاشم نورزئی کی گاڑی کو روک کر ان پر فائرنگ کی۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ پہلی فائرنگ کے بعد ملزم گاڑی سے اترا اور دوبارہ فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ہاشم نورزئی جاں بحق ہو گئے۔
پولیس نے مرکزی ملزم حکمت اللہ سمیت 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق قتل کے بعد دھرنے اور فاتحہ خوانی میں پیش پیش رہنے والا سعداللہ نورزئی، جو مرکزی ملزم حکمت اللہ کا بھائی ہے، مفرور ہے۔
ڈی آئی جی عمران شوکت نے کہا کہ مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

