کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے پر چین کی قیادت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں اور دونوں ممالک خطے میں پائیدار امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے فروغ میں قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر کردار ادا کر رہے ہیں۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی باہمی اعتماد، غیر متزلزل حمایت، مشترکہ خواہشات اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی ہے، جسے “آئرن برادرز” اور اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صدر Xi Jinping اور چینی عوام کو اس ڈائمنڈ جوبلی موقع پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ گوادر، چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا تاج کا نگینہ ہے اور اس میگا منصوبے کی تکمیل سے پاکستان، خصوصاً بلوچستان، معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کا اہم مرکز بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک مضبوط تجارتی راہداری بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی سی پیک اپنے تکمیلی مراحل میں داخل ہوگا، بلوچستان میں معیشت، تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔ سی پیک صرف ایک معاشی منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان اور چین کے مشترکہ روشن مستقبل کا وعدہ ہے۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عوامی روابط کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بطور گورنر بلوچستان چین کے دورے پر 16 رکنی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دورۂ چین کے دوران بلوچستان کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی ترقی اور صوبے کے نوجوانوں کے لیے اسکالرشپس کے حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کا مستقبل محفوظ ہو اور وہ جدید سائنس، تحقیق اور فلسفے کی روشنی سے مستفید ہو کر صوبے اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

