ترکیے نے کہا ہے کہ وہ ایرانی کرد عسکریت پسند گروہ PJAK کی سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کی کارروائیاں ایران کی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ترکیے کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات سامنے آئیں کہ ایرانی کرد ملیشیاؤں اور امریکا کے درمیان ایران کے خلاف جاری امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے حوالے سے مشاورت ہوئی ہے۔
منگل کے روز ذرائع نے بتایا تھا کہ ایرانی کرد ملیشیاؤں نے امریکا سے اس بارے میں مشورہ کیا کہ و ہ کس طرح ایران کے مغربی علاقوں میں ایرانی سکیورٹی فورسز پر حملے کرسکتے ہیں۔
اس قبل امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران پر عراقی کردوں نے زمینی حملہ شروع کردیا۔
امریکی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ایک اہلکار نے کہا کہ ایک ہزار عراقی کردوں نے ایران کیخلاف زمینی کارروائی شروع کردی ہے اور ہزاروں کرد سرحد پار کر کے ایرانی علاقوں میں داخل ہوگئے۔
نیویارک ٹائمز کا کہنا ہےکہ امریکی سی آئی اے کیجانب سے کردوں کو اسلحہ فراہم کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی خبر ایجنسی نے ایران کے سرحدی صوبوں میں کرد جنگجوؤں کے داخل ہونےکی خبروں کی تردید کردی۔

