وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے ضیاء نامی شخص کو گرفتار کیا ہے جو 10 سال سے پاکستان میں مختلف گروپس کو اسلحہ فراہم کررہا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں روزانہ 200 کے قریب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہوتے ہیں، ان آپریشنز میں سے ایک آپریشن کی تفصیلات بیان کررہا ہوں، ملک میں ٹیرر کرائم نیٹ ورک ہے چل رہا ہے، یہ نیٹ ورک، پٹرول، گاڑیوں یا منشیات کی اسمگلنگ کرتا ہے، یہ نیٹ ورک ملک میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں معاونت فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جے اے سی کو کالعدم قرار دیا گیا، انٹیلی جنس کی بنیاد پر نیٹ ورک پکڑا گیا ہے، ضیاء نامی شخص گرفتار ہے جو کہ دس سال سے بہت سے لوگوں کو اسلحہ فراہم کررہا تھا، یہ شخص کالعدم تنظیم جے اے سی کو اسلحہ فراہم کرتا ہے، ضیاء نامی شخص سردار امان کے کارخاص ماجد کے ساتھ رابطے میں تھا، ضیاء افغانستان میں بیٹھے شخص زرشار کے ساتھ رابطے میں تھا، زرشار افغانستان سے اسلحہ پاکستان میں سپلائی کرتا ہے، پاکستان میں ایسے بہت سے اضلاع ہیں جہاں اسمگلڈ گاڑیاں بہت زیادہ موجود ہیں۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ اسمگل شدہ پٹرول کے پمپس سیاسی پشت پناہی کے بغیر نہیں چل سکتے،اکبر نامی شخص سرکاری ملازم ہے جو اپنے ادارے کے کور میں یہ اسلحہ باڑہ سے لے کر آتا ہے، ضیاء دس سال سے ناجائز اسلحے کا کاروبار کررہا ہے دو سال سے اسلحے کی بڑی کنسائنمنٹس یہ جے اے سی کے لوگوں کو کرچکا ہے، آزاد کشمیر میں ایسا ماحول بنایا گیا کہ الیکشن کو متنازع بنایا جاسکے، دوسال سے یہ ایک شخص ان لوگوں کو اسلحے کی مختلف کنسائنمنٹس دے چکا ہے، افغانستان سپر پراکسی ہے جو ہمارے ملک میں بدامنی پھیلانے کے لیے ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بڑی مہم لانچ کی جاتی ہے، افغانستان میں دہشت گردوں کے ہائیڈ آؤٹس اور ٹریننگ کیمپس موجود ہیں، افغانستان سے دہشت گردوں کو فسیلیٹیشن بھی فراہم کی جا رہی ہے، جہاد اور ڈالر کے نام پر پاکستان میں عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، دہشت گردی کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے، کچھ سیاسی جماعتیں اور سیاسی کارکن چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے دہشت گردی کے نیٹ ورک کا حصہ بن جاتے ہیں، ٹیرر کرائم نیٹ ورک میں سرکاری ملازمین اور سیاستدانوں کی پشت پناہی بھی ہو سکتی ہے جب تک ٹیرر کرائم نیٹ ورک کو نہیں توڑیں گے تب تک پاکستان میں دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی، گنز اور ڈرگز کے کلچر کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تیز رفتار انصاف کا نظام ضروری ہے، دہشت گردی کے قوانین کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، ریاست کے بھی حقوق ہیں، صرف افراد کے حقوق کی بات نہیں ہونی چاہیے، اس نوعیت کے مقدمات کے لیے تیز رفتار اور فیس لیس عدالتوں کا نظام ہونا چاہیے، افغانستان سے پاکستان تک دہشت گردی کے نیٹ ورک میں ملوث افراد سے موبائلز، لوکیشنز اور دیگر شواہد ملے ہیں،
مقدمات میں شواہد کے باوجود سزائیں نہ ہوں تو دہشت گردی کے واقعات نہیں رکیں گے،
ریاستی فیصلوں پر تمام سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کو یکسو ہو کر عمل کرنا ہوگا، گاڑیوں، پٹرول، ڈرگز اور دیگر غیرقانونی کاروبار سے جڑے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں جیسے پہلے پٹرول اسمگل ہوتا تھا آج نہیں ہورہا، یہی وجہ ہے کہ بارڈرز کے علاقوں میں دھرنے ہورہے ہیں جب کہ پنجاب میں شاذ و نادر ہی کوئی اسمگلڈ گاڑی چلتی ہوگی، نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیے بغیر اس ٹیرر کرائم نیٹ ورک کو ختم نہیں کرسکتے، سیاسی جدوجہد اور مسلح کارروائیوں میں فرق ہونا چاہیے۔
انہوں ںے کہا کہ پورے کا پورا کشمیر پُرامن ہے سوائے ایک چھوٹے سے علاقے کے، آنے والے دنوں میں ایسے بہت سے انکشافات ہوں گے، کشمیر میں آدھی درجن سیاسی جماعتوں نے الیکشن لڑا اور عوام نے ووٹ دے کر ان کو مسترد کیا، کشمیر میں کوئی نوگوایریا نہیں،
کشمیر حکومت جب چاہے ان کو وہاں سے ہٹانے کے لیے کام شروع کردے گی لیکن یہ ایک سیاسی فیصلہ ہوگا، ہماری سیاسی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کی اہلیت میں کوئی کمی نہیں ہے۔
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ دنیا کا ایک بڑا ملک ہمارے خلاف کام کررہا ہے، اقوام متحدہ کہتا ہے افغانستان میں 20 سے زائد گروپ یا ادارے موجود ہیں جو غیرممالک میں دہشت گردی کارروائیوں میں ملوث ہے۔

