پیر, ستمبر 7, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںسابق پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش عدالت...

سابق پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش عدالت نے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

ڈاکٹر عائشہ فیض کو تفتیش کے لیے سی ٹی ڈی کے حوالے کردیا گیا
کوئٹہ: سابق پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کو انسداد دہشتگردی کوئٹہ کی عدالت میں پیش کردیا گیا، جہاں عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد انہیں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر کانٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)کے حوالے کردیا ذرائع کے مطابق سابق پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کو پولیس کی جانب سے سخت سکیورٹی میں انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تفتیشی حکام نے عدالت کو کیس سے متعلق ابتدائی تفصیلات سے آگاہ کیا اور مزید تفتیش کے لیے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی اے ٹی سی جج سید علی مبین نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت میں تفتیشی حکام کی جانب سے مقف اختیار کیا گیا کہ کیس سے متعلق مزید تفتیش اور شواہد اکٹھے کرنے کے لیے ڈاکٹر عائشہ فیض سے تفتیش ضروری ہے، جس کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے عدالت نے فریقین کے دلائل اور تفتیشی حکام کی استدعا سننے کے بعد ڈاکٹر عائشہ فیض کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں سی ٹی ڈی کے حوالے کردیا۔ عدالت کی جانب سے جسمانی ریمانڈ منظور ہونے کے بعد سی ٹی ڈی حکام اب ڈاکٹر عائشہ فیض سے کیس سے متعلق مزید تفتیش کریں گے ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف ایک اور مقدمہ بھی درج ہے، جس کے تحت پیکا ایکٹ کی دفعات کے تحت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) میں بھی کیس درج کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم سے متعلق مقدمے میں بھی ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہےدوسری جانب سابق پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف تین روز قبل سی ٹی ڈی میں بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتار کرکے تفتیش کا آغاز کیا گیا۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے درج مقدمے کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے تین روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف درج مقدمات میں مختلف قانونی دفعات شامل کی گئی ہیں، تاہم مقدمات کی مکمل تفصیلات اور ان میں عائد دفعات کے حوالے سے تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد مزید پیش رفت سامنے آنے کا امکان ہے عدالت میں پیشی کے موقع پر کیس کی کارروائی کے دوران تفتیشی حکام نے مقف اختیار کیا کہ معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے مختلف پہلوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ جسمانی ریمانڈ کے دوران سی ٹی ڈی حکام کیس سے متعلق دستیاب شواہد، دستاویزات اور دیگر متعلقہ مواد کی روشنی میں تفتیش آگے بڑھائیں گے ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف درج مقدمات کے سلسلے میں متعلقہ ادارے اپنی اپنی سطح پر قانونی کارروائی کررہے ہیں۔ ایک جانب سی ٹی ڈی کی جانب سے دہشتگردی سے متعلق مقدمے کی تفتیش کی جارہی ہے جبکہ دوسری جانب پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں سائبر کرائم سے متعلق تحقیقات کا عمل بھی جاری ہے ڈاکٹر عائشہ فیض کی عدالت میں پیشی اور تین روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری کے بعد کیس نے مزید اہمیت اختیار کرلی ہے۔ آئندہ تین روز کے دوران سی ٹی ڈی کی جانب سے ہونے والی تفتیش اور حاصل کیے جانے والے شواہد کی بنیاد پر کیس میں مزید پیش رفت متوقع ہے قانونی ماہرین کے مطابق جسمانی ریمانڈ کا مقصد تفتیشی ادارے کو ملزم سے براہِ راست تفتیش، متعلقہ شواہد کی جانچ پڑتال اور کیس کے مختلف پہلوں کی تحقیقات کے لیے قانونی اختیار فراہم کرنا ہوتا ہے۔ تاہم مقدمے کے حتمی حقائق کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا پولیس اور تفتیشی حکام کی جانب سے ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف درج مقدمات کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ عدالت کی جانب سے منظور کیے گئے تین روزہ جسمانی ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے پر انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں تفتیش کی پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کیا جائے گا اور آئندہ قانونی کارروائی کا فیصلہ ہوگا واضح رہے کہ ڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمات کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آنے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونا ضروری ہے۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!