ترجمان دفتر خارجہ طاہرحسین اندرابی کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو سفارتی عمل اور بات چیت کی ناکامی نہ سمجھا جائے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہرحسین اندرابی نے کہا کہ مشرق وسطی میں گزشتہ حملوں کی جانچ کررہے ہیں اسے قریب سے دیکھ رہے ہیں، اس کشیدگی سے ہمارے سفارتی حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں، موجود کشیدگی کو سفارتی عمل اور بات چیت کی ناکامی نہ سمجھا جائے۔
طاہرحسین اندرابی نے کہا کہ ہم نے تازہ ایران مخالف امریکی تجارتی پابندیوں کے اقدامات کے نفاذ کو دیکھا ہے، ایران پر تجارتی پابندیوں کو وزارت تجارت کے ساتھ مل کر گہرائی سے دیکھ رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ تینوں ممالک دفاعی صنعت، مشترکہ ٹیکنالوجی، پیداوار میں تعاون بڑھائیں گے، دفاعی تعاون کامقصدمسلح افواج کی صلاحیت اورباہمی ہم آہنگی بڑھاناہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں سیکرٹری جنرل کی سربراہی میں سیکرٹریٹ قائم کیاجائے گا، ابتدائی طورپرتین سال کیلئے سیکرٹری جنرل پاکستان سے ہوگا، مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد تینوں رکن ممالک کےمفادات کے مطابق ہے، فریقین نے معاہدے کے تحت تعاون کوادارہ جاتی بنانے پر اتفاق کیا، اس کا ایک مقصد خطے میں جنگ اور تنازعات کا خاتمہ بھی ہے۔
طاہرحسین اندرابی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مسائل کےدورخ ہیں وہاں بیرونی مداخلت موجود ہے، یہ بیرونی مخالفت افغان طالبان حکومت اور بھارت کی جانب سے جاری ہے، وزیراعظم نےگزشتہ روزبھی بیرونی مداخلت کا معاملےکو ایس سی او فورم پر اٹھایا، ہم ہر فورم پر بیرونی مداخلت اٹھاتے رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق سندھ طاس معاہدے کا تنازعات کے حل کاطریقہ کاربدستورمؤثرہے، پاکستان نے ثالثی عدالت کے واضح اور مستند فیصلوں کاخیرمقدم کیا، رتلے پن بجلی منصوبے سے متعلق عبوری اقدام نے بھی معاہدےکے حقوق وذمہ داریوں کی توثیق کردی۔

