پاکستان نے خطے میں امن و سلامتی کے فروغ اور ایران و امریکا کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں ایک بار پھر تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک اعلیٰ سطح سرکاری وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران پہنچنے پر ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا۔ جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات جاری ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیرداخلہ کے درمیان ملاقات میں وزیرداخلہ محسن نقوی بھی شریک ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر دورہ ایران میں ایرانی قیادت کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں کریں گے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں بتایا کہ فیلڈ مارشل کا یہ دورہ خطے میں امن کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کا تسلسل ہے، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر بات کی جائے گی۔
عرب خبر رساں ادارے ’العربیہ‘ کے مطابق، پاکستانی آرمی چیف اس دورے کے دوران ایرانی حکام تک اہم امریکی پیغامات بھی پہنچائیں گے تاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعطل کا شکار ہونے والے سفارتی مذاکرات کو دوبارہ سے شروع کیا جا سکے۔
اس دورے سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی فیلڈ مارشل سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
یہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا رواں سال چوتھا دورۂ ایران ہے، اس سے قبل وہ اپریل اور مئی میں سفارتی کوششوں کے سلسلے میں ایران گئے تھے، جبکہ جولائی میں وہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے تہران پہنچے تھے۔
رواں سال کے آغاز میں جب حالات زیادہ کشیدہ ہوئے تو پاکستان ایک کلیدی ثالث کے طور پر سامنے آیا اور جون کے مہینے میں پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان ’اسلام آباد معاہدے‘ (ایم او یو) کی راہ ہموار ہوئی۔ اس معاہدے کے تحت پابندیوں میں نرمی اور ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق اہم مسائل پر بات چیت کے لیے ساٹھ دنوں کی مہلت طے کی گئی تھی۔
اس فریم ورک کے تحت سوئٹزرلینڈ میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات بھی ہوئے جن میں پاکستان اور قطر نے بطور ثالث حصہ لیا، تاہم طے شدہ وقت میں کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا۔
اگست کی سترہ تاریخ کو اس ساٹھ دن کی مدت کے ختم ہونے کے باوجود کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہ آ سکی۔ تاہم ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اسلام آباد معاہدے میں کوئی لازمی ساٹھ دن کی حتمی تاریخ شامل نہیں تھی اور اگر دونوں فریق کسی اتفاق رائے پر نہ پہنچ سکیں تو اس مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کا یہ موقف ہے کہ اسلام آباد فریم ورک اب بھی اہمیت کا حامل ہے اور جب بھی دونوں فریق دوبارہ بات چیت کے لیے تیار ہوں، یہ معاہدہ ایک بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اس دورے میں علاقائی سیکیورٹی اور خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یہ اہم پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر سخت معاشی دباؤ ڈالنے کا اشارہ دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب تہران نے بھی کسی بھی قسم کے جبر کے سامنے نہ جھکنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
علاوہ ازیں، ایرانی پارلیمنٹ کی نیوز ایجنسی کے سربراہ مہدی رحیمی کے مطابق ایران کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے ایک مشترکہ دفاعی انتظامات میں شمولیت کی بھی دعوت موصول ہوئی ہے جس پر غور کیا جا رہا ہے۔
ماضی میں بھی اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان فریم ورک معاہدے اور جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا، اور اب ایک بار پھر تعطل کو توڑنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

