کوئٹہ: کوئٹہ کے نواحی علاقے سوررینج میں کوئلہ کان میں دھماکا 42کانکن پھنس گئے 6 لاشیں نکال لی گئیں 36افراد کو ریسکیو کرنے کے لیے آپریشن جاری خصوصی آلات نہ ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا۔محکمہ مائنز اور پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق جمعرات کی سہ پہر اطلاع ملی کہ سوررینج میں مقامی کوئلہ کان میں میتھین گیس کے باعث دھماکا ہوا ہے جس کے بعد پی ڈی ایم اے، مائنز ریسکیو اور دیگرٹیمیں موقع پرپہنچ گئیں اور ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا۔ حادثے کا شکار ہونے والی کان کے مالک نے بتایا کہ دھماکے کے وقت کان میں 42افراد موجود تھے جو کان میں پھنس گئے ہیں جبکہ جمعرات کی شام تک 6لاشیں نکال لی گئیں جبکہ دیگر پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔ پی ڈی ایم اے حکام نے بتایا کہ حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم جبکہ گیس کااخراج زائد اور خصوصی آلات نہ ہونے کے سبب ریسکیو آپریشن مشکلات کا شکار درپیش ہیں۔ صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز میر شعیب نوشیروانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسپین کاریز میں کوئلے کی کان بیٹھنے کے واقعے کے فوری بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیاہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر چیف انسپکٹر آف مائنز اور پی ڈی ایم اے حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ کان میں پھنسے مزدوروں تک رسائی کے لیے ایگزاسٹ اور ملبہ ہٹانے کا عمل تیزی سے جاری ہے، افسوسناک واقعے میں اب تک دو کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، ریسکیو آپریشن بلا تعطل جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان ریسکیو آپریشن کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں،متاثرہ مزدوروں کے اہل خانہ کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی، متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں گے۔

