کوئٹہ (آن لائن) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تحریک تحفظ آئین پاکستان کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بد امنی قومی شاہراہوں اور کاروبار کی بندش ، مال بردار گاڑیوں کو جلانے ، ججز سمیت لوگوں کی قتل و غارت گری کے خلاف مسائل کے حل کیلئے کوئٹہ میں 3 روزہ 29 سے 31 اگست تک جرگہ بلائیں گے اور 5 اگست کو عمران خان کی 3 سال جیل میں مقید ہونے کے خلاف احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے کئے جائیں۔ جبکہ باجوڑ سے لیکر پشتونخوا تک امن وامان کی بحالی کیلئے ستمبر یا اکتوبر میں پختونخوا وطن میں جرگہ بلایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں جماعت کے دیگر مرکزی صوبائی عہدیداروں عبدالرحیم زیارتوال، ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، نواب ایاز خان جوگیزئی، عبدالقہادر خان ودان، سید لیاقت آغا، عبدالرﺅف لالہ، عبدالمجید اچکزئی ، سید لیاقت آغا ، سید شراف آغا کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر سید عبدالخالق آغا ، کبیر افغان ، عصمت اللہ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج کے ٹیکنالوجی کے جدید دور میں بھی خطے اور پاکستان کے اندرونی حالات کو دیکھ کر حیرانی ہورہی ہے کہ آئے روز بد امنی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عوام پر زندگی کا دارو مدار بند کر رکھا ہے جس کی وجہ سے بلوچستان میں ججز ، وکلاء، سیاسی رہنماﺅں سمیت تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو قتل ، مال بردار گاڑیوں کو نذر آتش کرنا روز کا معمول بن چکا ہے جس سے قومی شاہراہوں اور کاروبار کی بندش سے عوام نان شبینہ کے محتاج ہورہے ہیں لیکن ہمارے اداروں سمیت حکومت اور ریاست کی جانب سے ان حالات کے تدارک اور امن کی بحالی کیلئے اقدامات نہ اٹھانا سوالیہ نشان ہے کہ ادارے ان حالات پر قابو پاتے ہوئے ریاست کی ذمہ داری پوری کرنے سے کیوں قاصر ہے لوگوں کے جان و مال ، کاروبار کو تحفظ نہیں دے رہے جس پر ہر شخص فکر مند ہے جبکہ پاکستان میں برائے نام ایوان بالا، ایوان زیریں اور صوبائی اسمبلیاں موجود ہےں لیکن ان کا کردار کوئی نظر نہیں آرہا کیونکہ کسی بھی شخص کو آواز اٹھانے کی اجازت نہیں اسی طرح میڈیا کا گلہ گھونٹا گیا ہے وہ بھی حقائق قوم کے سامنے رکھنے سے قاصر ہے جس طرح بلوچستان پاکستان اور اب کشمیر میں نہتے کشمیری عوام پر بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرعام گولیاں مار کر انہیں موت کی آغوش میں بھیجا جارہا ہے اس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ہم سب کو ملکر کشمیری عوام کا ساتھ دینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ 1974ءکے بعد ایک بار پھر بلوچستان میں اضلاع کو تقسیم کیا جارہا ہے پشتون علاقوں کو تقسیم نہ کیا جائے اس سے چیزیں خراب ہورہی ہے انہوں نے کہا کہ اضلاع کو تقسیم کرنے کے حوالے سے جرگہ بلائیں گے جرگہ میں عوام کے سامنے مسائل رکھیں گے تاکہ قوم جو فیصلہ کرے گی اس پر عملدرآمدکو یقینی بنائیں گے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پشتونوں کی مال بردار بسوں، ٹرکوں ، بوزر اور دیگر گاڑیوں کو جلانے کے ساتھ ساتھ ان کی قتل و غارت گری کی جارہی ہے اگر یہی روش برقرار رہی تو ہم اپنا کاروبار بند کرکے گاڑیاں کھڑی کردیں گے کیونکہ آزادی کے متوالے اس طرح لوگوں کی گاڑیوں کو نقصان پہنچانے یا ان سے بھتہ لینے کا اقدام نہیں کرسکتے انہوں نے کہا کہ موجودہ بدامنی اور بحرانی کیفیت میں بلوچستان میں بلوچ گروہوں کی طرف سے ریاست کے خلاف جنگ میں شدت آگئی ہے ہمارے لوگوں کی عزت اور گاڑیاں بھی محفوظ نہیںبلوچستان میں مزدوروں کو ایسے قتل کیا گیا جسے پرندے مارے گئے ہوں ان مزدوروں کے قتل کی ذمہ داری بھی کسی نے نہیں اٹھائی اس کے علاوہ ہنہ اوڑک اور زیارت واقعے کے بعد کسی بھی متعلقہ شخص ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر ، چیف سیکرٹری ، وزیرا علیٰ نے استعفیٰ نہیں دیااور نہ ہی کسی کو ان واقعات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے حالانکہ ہنہ اور زیارت کے لوگ ریاستی اداروں ، فورسز اور متعلقہ حکام سے مدد کے لئے پکارتے رہے اور اپنے اہلخانہ اور عزیز و اقارب سے مدد کی اپیل کرتے رہے لیکن کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچا ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ درجنوں گاڑیاں منگوچر کے مقام پر جلائی جارہی ہیںجس کی وجہ سے حالات روز بروز کشیدہ ہورہے ہیں ۔ باجوڑ سے لیکر پشتونخوا تک کہیں امن نہیںاس لئے ہماری جماعت نے 29،30٬31 اگست کو کوئٹہ میں جرگہ بلانے کا اعلان کیا ہے تاکہ اس میں تمام رکھیں جائے اور ایک مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جائے اور اس کے علاوہ ستمبر یا اکتوبر میں پختونخوا وطن کا جرگہ بلایا جائے گاکیونکہ پشتونخوا وطن کے باسیوں کو اسی طرح کے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ان کا کاروبار ٹھپ ہے تجارت کے راستے بند کردیئے گئے ہیں لوگ نان شبینہ کے محتاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہماری زمینیں دوسروں کو الاٹ کی جارہی ہیںحالیہ الاٹمنٹ کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے ۔ اس لئے ایسے الاٹمنٹ کے گھناﺅنے اقدامات بند کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہوجائیں گے اس روز پاکستان بھر میں جمہوری تحریک شروع کریں گے پشتون علاقوں میں کسی کو قتل اور مال کو نہیں جلایا جائے گا قومی شاہراہوں پر مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں سے 10٬10 لاکھ روپے بھتہ وصول کیا جارہاہے۔ اس کے سدباب کے لئے ریاست ، حکومت اور اداروں کو اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی جس میں وہ تا حال ناکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے اسلام آباد جانے والی مسافر جہازوں کا کرایہ 1 لاکھ روپے کمپنیاں وصول کررہی ہے جو ظلم کے مترادف ہے اس کا سدباب ہونا چاہئے ہم اپنی سر زمین کا دفاع کرسکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان اتنا کمزور نہیں کہ یہاں کے بگڑتے ہوئے حالات کو قابو نہ کرسکیں ہماری ایجنسیاں اور ادارے جس وقت چاہے حالات کو قابو کرسکتے ہیں لیکن تا حال جو حالات ہیں اس پر قابو کرنے کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھارہے جس پر لوگوں کو تشویش ہے انہوں نے کہاکہ 14 کوئلے سے لوڈ جلائے گئے ٹرکوں کا معاوضہ 95 لاکھ روپے دیا گیا ہے اتنا پیسہ ہم چندہ کرکے حکومت کے خزانے میں جمع کرائیں گے ہمیں اپنی گاڑیوں کا پورا معاوضہ چاہئے اگر رشوت ستانی، بدعنوانی کو روکا جائے تو ایک دن کی رشوت سے جلنے والی گاڑیوں کا معاوضہ ادا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بندوق کے ذریعے مسائل حل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی امن آسکتا ہے اس کے لئے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔پارلیمان ، عدلیہ اور میڈیا کو آزاد ، خود مختار بناناہوگا جو بھی پاکستان کو اس فارمولے پر چلانا چاہے گا ہم اس کے ساتھ ہوں گے اور ہم ظلم پر خاموش نہیں بیٹھیں گے بلکہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے اس لئے مقتدرہ ہم سے خفاءہے انہوں نے کہا کہ ہم جمہوری اور آئینی طریقے سے پاکستان کو چلانا چاہتے ہیں تاکہ یہ ملک آگے بڑھے اور لوگوں کے مسائل حل ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو قبائلی لشکر تشکیل دینے کے لئے کہا جارہا ہے اور اس کے لئے انہیں لوگ فراہم کرنے کی بھی آفر دی جارہی ہے جبکہ ہم اس کے مخالف ہے کیونکہ ہماری فوج ،اور سیکورٹی ادارے اتنے بھی کمزور اور کم نہیں کہ امن قائم نہ کرسکیں ہمیں قانونی اور جمہوری راستے اختیار کرتے ہوئے ملک اور قوم کو ان مشکلات سے نجات دلانا ہوگا۔

