جمعرات, جولائی 9, 2026
ہومبلوچستانکالعدم تنظیم کو بھتہ دینے سے بہتر ہے کہ میں موت کو...

کالعدم تنظیم کو بھتہ دینے سے بہتر ہے کہ میں موت کو ترجیح دوں، سردار عبدالرحمان کھیتران

کوئٹہ: مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہیں علیحدگی پسند تنظیموں کو بھتہ دینے یا اس حوالے سے تحقیقات کے باعث وزارت سے ہٹایا گیا۔

کوئٹہ: اپنے ویڈیو بیان میں سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے ان پر براہِ راست ایسا کوئی الزام عائد نہیں کیا، جبکہ بعض عناصر وزیراعلیٰ بلوچستان کی کارکردگی سے توجہ ہٹانے کے لیے ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔

کوئٹہ: انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ بی ایل اے اور دیگر کالعدم علیحدگی پسند تنظیموں کی مذمت کرتے رہے ہیں، خصوصاً بے گناہ پنجابی مسافروں کے قتل عام کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے۔

کوئٹہ: سردار کھیتران نے کہا کہ وہ ان تنظیموں کو متعدد بار چیلنج کر چکے ہیں کہ اگر لڑنا ہے تو ان کا مقابلہ کریں، نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ عمل ہے۔

کوئٹہ: انہوں نے کہا، "میں بی ایل اے اور دیگر کالعدم علیحدگی پسند تنظیموں کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہوں، نہ کبھی بھتا دے سکتا ہوں اور نہ ہی کوئی مجھ سے بھتا لینے کی جرات کر سکتا ہے۔ وطنِ عزیز کے لیے جان قربان کر سکتا ہوں، لیکن دہشت گردوں کے سامنے کبھی سر نہیں جھکاؤں گا۔”

کوئٹہ: سابق صوبائی وزیر نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں عہدے سے ہٹایا جائے یا صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے پر غور کیا جائے، کیونکہ موجودہ حکومت امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔

کوئٹہ: انہوں نے کہا کہ 2013 میں ہزارہ برادری کے قتل عام کے بعد اس وقت کے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کے دوران گورنر راج نافذ کیا گیا تھا، موجودہ حالات میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو یہ پیغام ملے کہ ناقص کارکردگی پر احتساب ہوتا ہے۔

کوئٹہ: سردار عبدالرحمان کھیتران نے وڈھ میں شفیق مینگل کی رہائش گاہ پر حملے، زیارت کے سانحے اور بلوچستان میں دیگر دہشت گرد حملوں میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے ان واقعات کی شدید مذمت کی۔

کوئٹہ: انہوں نے کہا کہ وہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور بلوچستان میں دہشت گردی اور کالعدم تنظیموں کے خلاف ہر محاذ پر جدوجہد جاری رکھیں گے۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے