منگل, جون 9, 2026
ہوماہم خبریںوفاق اور صوبوں میں وسائل کی تقسیم پر اختلاف برقرار،وسائل کی تقسیم...

وفاق اور صوبوں میں وسائل کی تقسیم پر اختلاف برقرار،وسائل کی تقسیم کا تنازع، وفاقی بجٹ میں تاخیر کی بڑی وجہ بن گیا

وسائل کی تقسیم کا تنازع وفاقی بجٹ میں تاخیر کی بڑی وجہ بن گیا،وفاق اور صوبوں کے درمیان قابل تقسیم محاصل کے فارمولے پر اختلاف برقرار ہے۔

ذرائع کےمطابق وفاق نےصوبوں سے تقریباً 1200 ارب روپےاضافی وسائل مانگے ہیں،تاہم صوبے اپنے حصےمیں کمی کرنے پر تیار نہیں، جس کے باعث معاملے پر مزید مذاکرات متوقع ہیں۔

وسائل کی تقسیم پراتفاق کے بعد وفاقی بجٹ 12 جون کوپیش کرنےکی تجویززیرغورہے،وفاقی حکومت صوبوں کومجموعی طورپر تقریباً 8200 ارب روپےدینے کی خواہاں ہے،جبکہ موجودہ فارمولے کے تحت صوبوں کا حصہ تقریباً 9400 ارب روپے بنتا ہے۔

ذرائع کےمطابق وفاق نےپنجاب سے 650 ارب،سندھ سے 300 ارب،خیبرپختونخوا سے 180 ارب اور بلوچستان سے 110 ارب روپےاضافی حصہ چھوڑنےکامطالبہ کیا ہے،سندھ کے لیےترقیاتی بجٹ 50 ارب سے بڑھا کر 62 ارب روپے کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے،وفاق کا مؤقف ہےکہ اضافی وسائل دفاع، قومی سلامتی اور ریلیف کے شعبوں پرخرچ کیےجائیں گے،این ایف سی میں تبدیلی کیلئےقانون سازی یا صوبوں کی رضامندی لازمی قرار دی گئی ہے۔

دوسری جانب پنجاب حکومت وفاقی حکومت کو مالیاتی رعایت دینے پرتیارہوگئی ہے،ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت وفاق کو 570 ارب روپے تک کی مالیاتی رعایت دے سکتی ہے، جس سے وفاقی حکومت کومالیاتی خسارہ کم کرنے اور آئی ایم ایف کے اہداف پورے کرنے میں مدد ملے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کو این ایف سی ایوارڈ کےتحت قابل تقسیم محاصل سے 3 ہزار 793 ارب 70 کروڑ روپے ملنے کا امکان ہے، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے صوبے کے مجموعی بجٹ کا حجم 5 ہزار 131 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔

ذرائع کےمطابق صوبائی محصولات سے 1 ہزار 330 ارب روپےآمدن متوقع ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ وفاقی حکومت کے فیصلے کےمطابق کیا جائے گا۔

بجٹ تجاویز کےتحت تنخواہوں کےلیے 650 ارب روپے اورپنشن کی مدمیں 505 ارب 80 کروڑروپے مختص کیےجانے کا امکان ہے،پنجاب فنانس کمیشن کے لیے 800 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کےمطابق سماجی تحفظ کے پروگراموں کے لیے 25 ارب روپےجبکہ ستھرا پنجاب پروگرام کے لیے 150 ارب روپےمختص کرنےکی سفارش کی گئی ہے،آپریشنل اخراجات کے لیے 580 ارب 20 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

اسی طرح سرمایہ کاری کےدیگرپروگراموں کےلیے 221 ارب 90 کروڑ روپے،بیرونی معاونت سے جاری منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے اورترقیاتی وسرمایہ جاتی دیگر اخراجات کے لیے 570 ارب روپے مختص کرنے کی سفارشات سامنے آئی ہیں،پنجاب کےمجموعی اخراجات 3 ہزار 569 ارب 60 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے