کوئٹہ: معاونِ خصوصی برائے داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے کہا ہے کہ فتنہ الہندستان نے اب خواتین، اساتذہ اور بلوچستان کے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔
بابر یوسفزئی کے مطابق آج صبح فتنہ الہندستان نے بلوچستان کی دوسری بہادر شہید بیٹی، لیڈی کانسٹیبل شکیلہ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ لیڈی کانسٹیبل شکیلہ کو بچوں کے سامنے شہید کرنا کھلی دہشتگردی ہے جبکہ معصوم خاندان پر 31 راؤنڈ فائرنگ دہشتگردوں کی سفاکیت کی انتہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں پر حملے دہشتگردوں کی بزدلانہ ذہنیت کا ثبوت ہیں اور فتنہ الہندستان کو نہ خواتین کے احترام کا خیال ہے اور نہ ہی بچوں کی معصومیت کا۔
بابر یوسفزئی نے کہا کہ بلوچستان پولیس کی بہادر خاتون اہلکار نے وطن پر اپنی جان قربان کردی، تاہم شہید لیڈی کانسٹیبل شکیلہ کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اہلکاروں کے حوصلے بلند ہیں اور دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فتنہ الہندستان بلوچ نسل کو تعلیم سے محروم رکھنا چاہتا ہے اور خواتین اہلکاروں و اساتذہ کو نشانہ بنانا کھلی دہشتگردی ہے۔
بابر یوسفزئی کے مطابق آج صبح پروفیسر غمخوار حیات کو بھی شہید کیا گیا جبکہ خدشہ ہے کہ گوادر یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر رزاق صابر اور ڈاکٹر منظور کو بھی فتنہ الہندستان نے اغوا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگرد بلوچستان میں تعلیم کے دروازے بند کرنا چاہتے ہیں، تاہم بلوچستان کے عوام دہشتگردی اور جہالت کے ایجنڈے کو مسترد کرتے ہیں۔
بابر یوسفزئی نے کہا کہ فتنہ الہندستان کا مقصد بلوچستان میں خوف، جہالت اور بدامنی پھیلانا ہے جبکہ تعلیم دشمن عناصر بلوچ نوجوانوں کا مستقبل تاریک کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام، اساتذہ اور سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں اور دہشتگرد عناصر اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

