امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کی سب سے بڑی چِپ ساز کمپنی نے ایرانی افواج کو چِپ سازی کے آلات فراہم کیے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ دو سینئر حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چینی آلات تقریباً ایک سال قبل ایران کو فراہم کیے گئے تھے اور ان کے مطابق اس تعاون کے رُکنے کے کوئی شواہد موجود نہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس تعاون میں ممکنہ طور پر سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی سے متعلق تکنیکی تربیت بھی شامل تھی، جو ایران کے فوجی صنعتی ڈھانچے کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
میڈیا پورٹس کے مطابق یہ واضح نہیں کیا گیا کہ فراہم کردہ آلات امریکی ساختہ تھے یا نہیں، کیونکہ ایسی صورت میں یہ اقدام امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی تصور کیا جا سکتا ہے۔
چینی کمپنی، واشنگٹن میں چینی سفارتخانے اور اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ امریکا نے چین کی جدید سیمی کنڈکٹر صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے مختلف چینی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، تاکہ انہیں جدید آلات تک رسائی نہ مل سکے۔
مذکورہ چینی کمپنی کو 2020ء میں امریکی تجارتی بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا تھا، جس کے باعث اسے امریکی برآمدات تک محدود رسائی حاصل ہے، کمپنی ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے کہ اس کے چینی فوجی صنعتی نظام سے روابط ہیں۔
ادھر چینی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معمول کے مطابق تجارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
چین نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع پر باضابطہ طور پر کسی فریق کی حمایت نہیں کی۔

