ہفتہ, اکتوبر 24, 2026
ہوماہم خبریںپاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر...

پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار تشویش، سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق

استنبول: پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا  اور چاروں ممالک نے فلسطین میں دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد کا مطالبہ کردیا۔

استنبول میں آر 4 ملکوں(پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب ) کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا جس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں چاروں ممالک کے  وزرائے خارجہ نے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، مشرق وسطیٰ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ حوثی ملیشیا کی کارروائیاں یمن میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں، خصوصاً شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی گئی۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ  بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہیں، حوثی ملیشیا فوری طور پر فوجی کارروائیاں اور حملے بند کرے۔

مشترکہ اعلامیہ میں  یمن کی حکومت اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری سے ممکن ہے، امریکا، اسرائیل اور ایران کے تنازع میں شہریوں، شہری تنصیبات اور جہازوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے،  پاکستان میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی حمایت کرتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت اور جہاز رانی کی آزادی ناگزیر ہے، آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت فوری اور مکمل بحال کی جائے،  سمندری راستوں میں رکاوٹیں عالمی سپلائی چین، توانائی، کھاد اور خوراک کی ترسیل کو متاثر کرتی ہیں،  قانونی بحری آمدورفت میں رکاوٹیں ڈالنے والے اقدامات مسترد کرتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں علاقائی معاملات پر قریبی مشاورت اور رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا اور کہا گیا کہ  اسرائیلی قبضہ خطے اور اس سے باہر عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔

پاکستان، ترکیے، مصر اور سعودی عرب نے فلسطین میں دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے  فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ  مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی حمایت کرتے ہیں،  یروشلم کی قانونی اور تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں بند کی جائیں۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!