قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن قائدین راجانا صرعباس، بیرسٹرگوہرعلی خان اور اسد قیصر کو بانی پی ٹی آئی سے عمران خان ملاقات تک مزید مذاکرات سے روک دیا۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے راجا ناصرعباس، بیرسٹر گوہر علی خان اور اسد قیصر سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ محموداچکزئی نے اپوزیشن قائدین کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک مزید مذاکرات سے روک دیا۔
محمود اچکزئی نے اپوزیشن قائدین کو ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے مطالبے پر قائم رہیں۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ مذاکرات کیلئے عمران خان سے ملاقات کی شرط کے علاوہ کوئی آپشن قبول نہ کی جائے۔
دوسری جانب مذاکراتی عمل میں ڈیڈلاک کے پیش نظر پی ٹی آئی اور حکومت مولانا فضل الرحمان کو ثالث بنانے پر تیار ہیں تاہم مولانا فضل الرحمان نے ثالث بننے کیلئے حکومت اور اپوزیشن کے سامنے 5 شرائط رکھ دیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کی مولانا فضل الرحمان سے کردار ادا کرنے کی درخواست پر سربراہ جے یو آئی نے فریقین کو جواب دیا ہے کہ پہلے جائزہ لوں گا دونوں مسئلے کے حل میں کتنے سنجیدہ ہیں، فریقین کے جواب کے جائزے کے بعد مولانا فضل الرحمان ثالثی کردارادا کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے ثالثی کے کردار کے لیے فریقین کو اپنی شرائط سے بھی آگاہ کردیا، کہا فریقین نے بنیادی امور پر اتفاق کیا تو مولانا فضل الرحمان اپنا کردار ادا کریں گے، سنجیدہ اور مخلصانہ کوشش سے اب بھی راستہ نکالا جاسکتا ہے۔
فضل الرحمان نے فریقین کو مشورہ دیا ہے کہ ایک دوسرے کے موقف کو تسلیم کریں گے تو درمیانی راستہ نکل آئے گا، ڈیڈلاک برقراررہا اور لانگ مارچ کیخلاف طاقت استعمال ہوئی توکچھ نہیں بچے گا۔

