بلوچستان اسمبلی کی عمارت گرائے جانے کے خلاف درخواست پر بلوچستان ہائیکورٹ نے وفاقی پی ایس ڈی پی میں صوبائی اسمبلی کے منصوبے کی تفصیل طلب کرلی۔
چیف جسٹس محمد کامران ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل عبدالطیف کاکڑ کا کہنا تھا کہ یہ وفاقی فنڈڈ منصوبہ ہے، اس کے فنڈز منظور ہوچکے ہیں۔
چیف جسٹس بلوچستان نے ریمارکس دیے کہ بتایا جائے کہ یہ منصوبہ وفاقی پی ایس ڈی پی میں شامل ہے یا نہیں، میری اطلاعات کے مطابق وفاقی پی ایس ڈی پی میں 3، 4 منصوبے شامل ہیں۔
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ اسمبلی والا منصوبہ ڈراپ ہوچکا ہے۔
درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ اسمبلی عمارت تاریخی ورثہ ہے، اسے نہ گرایا جائے، اسے محفوظ کیا جائے۔
بلوچستان ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان اسمبلی کے منصوبے کی تفصیل دی جائے۔
بلوچستان اسملبی کی عمارت گرائے جانے کے خلاف درخواست کی سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

