اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کا ایک غیر اعلانیہ اور خفیہ دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے اہم ملاقات کی۔
سینئر اسرائیلی حکام کے مطابق اس چھ گھنٹے طویل دورے کے دوران نیتن یاہو کے ہمراہ موساد کے ڈائریکٹر رومن گوفمین، قومی سلامتی کے مشیر شموئل بن عزرا اور دیگر اعلیٰ سیکیورٹی حکام بھی موجود تھے۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سات اکتوبر کے حملوں کے حوالے سے مبینہ انتباہ کی نئی رپورٹ پر شدید سیاسی بحث جاری ہے۔
اسرائیلی اخبار ’ہاریٹز‘ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شیخ محمد بن زاید نے سات اکتوبر کے حماس کے حملے سے تقریباً دس دن پہلے نیتن یاہو کو فون کر کے ایک بڑے حملے کی تیاری کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
اخبار کے مطابق یہ معلومات اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں تک نہیں پہنچائی گئی تھیں۔
تاہم نیتن یاہو نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اخبار کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے، جب کہ اپوزیشن کی جانب سے اس سیکیورٹی ناکامی پر ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 2020 کے ابراہم معاہدے کے تحت سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور سیکیورٹی روابط مزید گہرے ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے کے ذرائع کھلے رہے ہیں، تاہم سیکیورٹی امور پر بات چیت متعلقہ اداروں کی سطح پر کی جاتی رہی ہے۔ ایران جنگ کے بعد دونوں ممالک کے حکمتِ عملی سے متعلق تعلقات مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
اسرائیلی رپورٹ کے مطابق یہ دورہ پچھلے کچھ ہفتوں سے طے شدہ تھا اور منصوبہ بندی یہ تھی کہ وفد کی اسرائیل واپسی پر دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا۔
تاہم وفد کی واپسی سے قبل ہی خبریں میڈیا پر لیک ہو گئیں، جس کے بعد پیر کے روز تک اماراتی حکام کی جانب سے اس ملاقات پر باضابطہ تصدیق یا تبصرہ سامنے نہیں آیا تھا۔

