پیٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھتے جارہے ہیں اور مہنگائی نے ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ کی حد عبور کرلی ۔ اگست میں سالانہ شرح11.15 ریکارڈ کی گئی ۔ عام آدمی کے کچن سے لے کر علاج اور سفر تک ہر چیز کے اخراجات بڑھ گئے۔
ملک میں شرح مہنگائی میں ایک ماہ میں تقریباً دو فیصد اضافہ ہوگیا، اگست میں سالانہ شرح 11.15 فیصد ریکارڈ کی گئی، جولائی میں مہنگائی کا گراف 9.2فیصد پر تھا۔ پیاز، انڈے، آلو، گندم اور آٹا مہنگا۔ بجلی بل ، گھروں اور ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ گئے۔
ادارہ شماریات کے مطابق ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 1.19 فیصد اضافہ ہوا۔ اگست میں پیاز کی قیمت 46 فیصد اور انڈوں کی 11.51 فیصد تک بڑھی ۔ آلو 6.82 فیصد اورسبزیاں 5.50 فیصد تک مہنگی ہوئیں۔ گندم کا بھاؤ 5.25 فیصد آٹے کا 2 ، دال چنا کا 4.77 اور بیسن کا ریٹ 3.74 فیصد بڑھا۔
چائے، دال مسور، گھی اور خشک دودھ مہنگی ہونےوالی اشیا میں شامل ہیں۔ ایندھن، واٹر سپلائی، بجلی ، ٹرانسپورٹ کرائے، اسپتال چارجز ، ادویات اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سالانہ بنیاد پر ٹرانسپورٹ کرائے 20 فیصد تک بڑھ گئے جبکہ ہاوسنگ، پانی، بجلی اور گیس 8.87 فیصد مہنگی ہوئی۔

