وزیراعلیٰ کا تیار فصلیں اور باغات کاٹنے والا بیان غیر آئینی، غیر انسانی اور حکومت کی امن و امان برقرار رکھنے کی ناکامی کا اعتراف ہے۔ سعد دہوار
کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری سوشل میڈیا سعد دہوار نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ "مستونگ میں باغات سے حملے جاری رہے تو آبادی کو منتقل یا باغات کو ختم کرنا ہوگا۔”
سعد دہوار نے کہا کہ بلوچستان اس وقت ایک غیر یقینی صورتحال اور پرآشوب دور سے گزر رہا ہے۔ طاقت کے بے جا استعمال نے ان حالات کو مزید پیچیدہ بنایا ہوا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں کرفیو، لوگوں کی جبری گمشدگیاں، مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی، ٹارگٹ کلنگ، علاقوں اور شاہراوں میں چوری، ڈکیتی اور بم دھماکے رپورٹ ہو رہے ہیں، حکومتی رٹ ریڈ زون تک محدود ہوکر رہ گئی ہے ایسے حالات میں بھی حکومتِ وقت کی جانب سے اس قسم کے ہٹ دھرمی اور ہتک آمیز رویے مزید جلتی پر تیل چھڑکنے کا باعث بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے روزِ اول سے بلوچستان میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کی ہے اور سیاسی مذاکرات پر زور دیا ہے۔ اسی سلسلے میں نیشنل پارٹی کی جانب سے گزشتہ دنوں وفاقی حکومت کو بھی بلوچستان کے جملہ مسائل کے حل کے لیے جامع تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
سعد دہوار نے کہا کہ حکومت کی ناکامی کی سزا عوام کو دینا کسی بھی مہذب حکومت کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ امن و امان قائم کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ اگر حکومت اس میں ناکام ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہزاروں بے گناہ کسانوں کے روزگار، ان کی صدیوں پرانی محنت اور ان کے فصلوں اور باغات کو اجتماعی سزا کے طور پر تباہ کر دے۔ یہ کالونیل سوچ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A میں دیے گئے منصفانہ ٹرائل اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے سراسر منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستونگ اور قلات کے فصلیں اور باغات بلوچستان کا قومی سرمایہ، ہزاروں خاندانوں کا معاشی سہارا اور صوبے کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 9 ہر شہری کو زندگی اور معاش کا تحفظ دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 23 اور 24 جائیداد کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بیان انسانی حقوق کے عالمی چارٹر اور پاکستان کے ماحولیاتی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ آج جب پورا صوبہ پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہے، ایسے وقت میں باغات کو کاٹنے کا اعلان ماحولیاتی خودکشی کے بھی مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی حکومت سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوراً اپنا یہ غیر دانشمندانہ بیان واپس لے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ زمینداروں کو تحفظ دے، سیکیورٹی کے انتظامات کو بہتر کرے، بجائے اجتماعی سزا کے طور پر انہیں بے دخل کرنے اور باغات کاٹنے کی دھمکیاں دینے کی کیونکہ سیکورٹی کی زمہ داری ریاست اور حکومت کی ہے عام عوام کی نہیں۔
نیشنل پارٹی اس غیر آئینی اور غیر انسانی فیصلے اور مطالبے کے خلاف ہر قانونی، آئینی اور عوامی سطح پر بھرپور سیاسی مزاحمت کرے گی۔

