مستونگ. نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر میر سکندر خان ملازئی نے 8 اگست کے سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 اگست بلوچستان کی تاریخ کا ایک ایسا المناک دن ہے جس کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ اس روز دہشت گردی کے ایک بزدلانہ حملے میں وکلاء، صحافیوں اور دیگر بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جن کی قربانیاں پوری قوم کے لیے ناقابلِ فراموش ہیں۔
میر سکندر خان ملازئی نے کہا کہ سانحہ 8 اگست محض ایک دہشت گرد حملہ نہیں تھا بلکہ یہ بلوچستان میں قانون، انصاف اور آئینی بالادستی کی آواز کو دبانے کی کوشش تھی۔ شہداء میں بڑی تعداد ان وکلاء کی تھی جو معاشرے میں انصاف اور قانون کی سربلندی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے تاریخ میں ایک لازوال باب رقم کیا۔ ان کی قربانیوں کو یاد رکھنا صرف قومی فریضہ نہیں بلکہ نئی نسل کو امن، برداشت، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی اہمیت سے روشناس کرانے کی ذمہ داری بھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ صرف طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے انصاف، تعلیم، جمہوری اقدار، سیاسی استحکام اور قانون کی یکساں عملداری کو یقینی بنانا ہوگا۔
میر سکندر خان ملازئی نے کہا کہ نیشنل پارٹی شہداء کے خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ ایک پرامن، جمہوری اور خوشحال بلوچستان کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحہ 8 اگست سمیت دہشت گردی کے تمام واقعات کے محرکات اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ شہداء کے لواحقین کو انصاف مل سکے۔
انہوں نے آخر میں 8 اگست کے تمام شہداء کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں اور ان کا مشن امن، انصاف اور قانون کی بالادستی کی صورت میں زندہ رکھا جائے گا۔

