دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ دہشت گردی ہے، طالبان حکومت یا تو افغان سر زمین سے پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں سہولت کار ہے یا چشم پوشی کر رہی ہے۔
انہوں نے ہفتہ وار بریفنگ میں مطالبہ کیا ہے کہ طالبان حکومت تحریری یقین دہانی دے کہ افغان سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، ورنہ تعلقات موجودہ سطح پر ہی رہیں گے۔
پاکستان نے بی ایل اے، ٹی ٹی پی سمیت دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ سندھ طاس معاہدے پر بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی سخت مذمت کی ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے حصے کے ایک قطرہ پانی پر بھی سمجھوتا نہیں کرے گا، سندھ طاس معاہدے میں کسی بھی فریق کے یک طرفہ طور پر علیحدگی اختیار کرنے کی کوئی شق موجود نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، تنازعات کے پُرامن حل کے لیے سہولت کار اور ثالث دونوں کا کردار ادا کر رہا ہے، وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے 2 دوروں پر ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتوں میں سیکیورٹی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین اپنی دوستی کی 75 سالہ تقریبات منا رہے ہیں، 75 سال مکمل ہونے پر سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد ہوا، دونوں ممالک نے گزشتہ 75 سال میں ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا، تجارت، صنعت، تعلیم اور عوامی رابطوں میں باہمی شراکت داری موجود ہے، سفارتی تعلقات کے 75 سال پر پاک چین لازوال دوستی اور باہمی تعاون کا اعادہ کیا جارہا ہے۔
طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی کو چین کا دورہ کر رہے ہیں، وزیرِ اعظم کی چین کے دورے میں چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیرِ اعظم لی چیانگ سے ہو گی، وزیرِ اعظم پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کی صدارت بھی کریں گے، ایک استقبالیہ تقریب میں بھی شرکت کریں گے، زراعت، تجارت، آئی ٹی، سائنس اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ پر توجہ دی جائے گی، وزیرِ اعظم کا دورہ پاکستان اور چین کی آل ویدر اسٹریٹجک پارٹنر شپ کی تجدید اور مزید مضبوطی کا باعث بنے گا، پاک چین تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں، چین کی جانب سے پاکستان کے ساتھ غیر متزلزل حمایت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے تہران کے 2 اہم دورے کیے ہیں، ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں، ملاقاتوں میں پاک ایران دو طرفہ تعلقات اور سیکیورٹی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ 17 مئی کو سعودی عرب اور یو اے ای کی فضائی حدود میں ڈرون حملوں کے واقعات پیش آئے، ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، پاکستان نے ڈرون واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کی سخت مذمت کی ہے، پاکستان نے امید ظاہر کی کہ ایسے افسوس ناک واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان 21 مئی کے واقعے میں شہید کشمیریوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے، نائب وزیرِ اعظم نے بنگلادیش کے سینئر سول سرونٹ کا استقبال کیا، بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کے لیے بلند ہونے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کرتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی بربریت کی عالمی برادری گواہ ہے، کشمیری رہنماؤں کے ساتھ ہونے والے مظالم قابلِ مذمت ہیں، بھارت خطے میں دہشت گردی پھیلانے کے درپے ہے، دہشت گردی کےخاتمے کے لیے پاکستان کی لازوال قربانیاں دنیا کے سامنے ہیں۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ جموں و کشمیر تنازع کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا ضروری ہے، پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور عالمی انسانی حقوق فورمز پر آواز اٹھاتا رہے گا، بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادیو کیس بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا واضح ثبوت ہے، بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی قرار نہیں دے سکتا، پاکستان تمام کشمیری سیاسی قیدیوں اور انسانی حقوق کارکنوں کی رہائی مطالبہ کرتا ہے، عالمی برادری کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے میں کردار ادا کرے، مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرنا قانونی اور سیاسی حیثیت نہیں رکھتا، سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم ثالثی عدالت کے فیصلے حتمی اور دونوں فریقوں پر لازم ہیں، بھارت کی کارروائیاں مغربی دریاؤں پر پانی کے کنٹرول سے متعلق معاہدے کی حدود سے متصادم ہیں، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا دعویٰ بے بنیاد ہے، معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے، پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔
ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان عالمی سلامتی، اسلحہ کنٹرول اور عدم پھیلاؤ پر تفصیلی مشاورت ہوئی، پاکستان اور روس نے عالمی فورمز پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، اگلا اجلاس2027ء میں اسلام آباد میں ہو گا۔
ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیرِ داخلہ کے دوروں کو ادارہ جاتی اختلافات سے نہ جوڑا جائے، پاکستان امن کوششوں کے حوالے سے مکمل طور پر متحد اور ایک پیج پر ہے، اس حوالے سے قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، امن کوششیں قومی سطح کی مشترکہ کاوش ہیں، چینی اقتصادی منصوبے بند نہیں ہوئے، یہ درست نہیں، پاکستان نے ملک میں دہشت گرد حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں، ہم غیر ملکی شہریوں خصوصاً چینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کی بے دخلی سے متعلق تاثر کو ہم نے واضح طور پر مسترد کیا ہے، اگر کوئی ایک آدھ واقعہ ہوا بھی ہے تو اسے عمومی رجحان قرار نہیں دیا جا سکتا، دو ہفتے قبل بریفنگ میں ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹس جاری ہونے والے افراد کے اعداد و شمار پیش کیے تھے، تقریباً 2 سے 3 ہزار افراد کو ایمرجنسی سفری دستاویزات جاری کی گئیں، بعض قیدیوں کو شاہی معافی ملنے کے بعد ان کی سزائیں مکمل ہوئیں اور انہیں واپس بھیجا گیا، اگر کسی خاندان کے ساتھ کوئی الگ واقعہ پیش آیا ہے تو ہمیں آگاہ کیا جائے، ابوظبی میں سفارتخانہ اور دبئی میں قونصل خانہ معاملہ اٹھائیں گے، پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات مضبوط ہیں، انہیں ری سیٹ کرنے کی ضرورت نہیں، ہم یو اے ای کے نظام انصاف اور انتظامیہ پر اعتماد رکھتے ہیں، اگر کسی غیر منصفانہ بے دخلی کا معاملہ ہوا تو اسے دو طرفہ چینلز کے ذریعے اٹھایا جا سکتا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں بتائی گئی 3500 یا 4000 افراد کی تعداد اور ہماری دی گئی تعداد میں زیادہ فرق نہیں، پاکستان یو اے ای حکام سے مسلسل رابطے میں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اچھا تعاون موجود ہے، پاکستان اور چین کے درمیان مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی صورتِ حال پر قریبی رابطہ موجود ہے، وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کے گزشتہ ماہ دورۂ چین کے دوران 5 نکاتی اصولوں پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا، چین نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر ِاعظم کے دورۂ چین کا بنیادی محور دو طرفہ تعلقات، سیاسی روابط اور معاشی تعاون ہے، مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر بھی وزیرِاعظم اور چینی قیادت کے درمیان بات چیت متوقع ہے۔

