امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا منتظرہےکہ مذاکرات میں ایران کی نمائندگی کون کرےگا؟ لیکن ہم ایران میں زمینی فوج اتارے بغیر اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔
فرانس میں جی سیون وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران میں فوجی مقاصد پانے کے باوجود بھی آبنائے ہرمز کھلی رکھنا ایک ‘فوری چیلنج’ بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا جنگ ختم ہونے کے بعد آبنائےہرمز کھلی رکھنے پر بین الاقوامی تعاون حاصل کرے گا، خدشہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے لیے ٹول سسٹم قائم کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز بند کرنا خطرناک ہے، ضروری ہے کہ دنیا کے پاس ایک منصوبہ موجود ہو، یوکرین کے لیے مختص ہتھیار ایران کے خلاف استعمال نہیں کیے جا رہے لیکن ایسا ہو سکتا ہے۔
مارکو روبیو کے مطابق امریکا منتظرہےکہ مذاکرات میں ایران کی نمائندگی کون کرےگا؟ لیکن ایران میں زمینی فوج اتارے بغیر اپنے مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔

