اسرائیل نے فضائی حملے میں انٹیلی جنس منسٹر اسماعیل خطیب کی شہادت کا دعویٰ کردیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق تہران پر حملے میں ایران کے انٹیلی جنس منسٹر اسماعیل خطیب کو نشانہ بنایا گیا، حکام اس کارروائی کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں، ایران سے ابھی تک اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ امریکا نے چند ہی روز پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کی اہم شخصیات سے متعلق معلومات دینے والوں کو ایک کروڑ ڈالر انعام دے گا۔
جن شخصیات سے متعلق امریکا نے معلومات طلب کی گئی تھیں ان میں نئے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای، قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی اور ڈائریکٹر و منسٹر انٹیلی جنس اینڈ سیکیورٹی اسماعیل خطیب بھی شامل تھے۔
اس کے علاوہ سپریم لیڈر آفس میں ڈپٹی چیف آف اسٹاف علی اصغر حجازی، سیکریٹری ڈیفنس کونسل، سپریم لیڈر کے مشیر میجر جنرل یحیی رحیم صفویٰ، ملٹری آفس چیف وزیر داخلہ بریگیڈیئر جنرل اسکندر مومنی، ڈائریکٹر و منسٹر انٹیلی جنس اینڈ سیکیورٹی اسماعیل خطیب اور پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کا زکر کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ روز ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کو نشانہ بنانےکا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد آج ان کی شہادت کی تصدیق ایرانی حکام کی جانب سے کردی گئی ہے۔

