پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سلامتی،خود مختاری اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
سینیٹ اجلاس میں وزارت خارجہ کی جانب سے افغانستان سے متعلق تحریری جواب جمع کروایا گیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق بطور پڑوسی پاکستان ایک پرامن، مستحکم، خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، پاکستان نے افغان طالبان رجیم کے ساتھ مستحکم مصروفیت کی پالیسی اپنائی، افغانستان سے صرف ایک توقع ہےکہ وہ پاکستان کےجائز سکیورٹی خدشات حل کرے، افغان سرزمین پربی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت دہشتگرد تنظیموں کےخلاف ٹھوس کارروائی کی جائے، افسوسناک ہےکہ افغان رجیم کی جانب سے ہماری کوششوں کا مثبت جواب نہیں دیا گیا۔
تحریر جواب میں لکھا گیا کہ افغان رجیم کے اگست2021میں برسراقتدار آنے کے بعدافغان سرزمین سے کارروائیاں بڑھیں، گزشتہ برس افغانستان سے 5300 دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 1200 جانیں ضائع ہوئیں، افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیمیں پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ ہیں۔
وزارت خارجہ نے مزید بتایا کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیمیں علاقائی اورعالمی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں، اکتوبر2025میں افغان رجیم نے ٹی ٹی پی ٹھکانوں سےپاکستان کے خلاف جارحیت کی، ہم اپنی کارروائیوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
وزارت خارجہ کے تحریری جواب کے مطابق امن اور سفارتکاری کا حامی ہونے کی وجہ سےپاکستان مزیدکشیدگی نہیں چاہتا، ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں، مذاکرات درست راستہ ہے،تنہائی نہیں، پاکستان کی سلامتی اور مختاری اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

