وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہاہے کہ افغانستان کیلئے پاکستان نے بہت قربانیاں دی ہیں، ماضی میں ہماری ہمدردیاں ہمیشہ افغانستان کے ساتھ رہیں، افغان طالبان رجیم کے آنے کے بعد ساڑھے 8 ہزار شہادتیں ہوچکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی روکنے کی کبھی یقین دہانی نہیں کرائی گئی، افغان طالبان کو10 ارب روپے کی پیشکش بھی کی، افغان طالبان سے کہا گیا کہ پاکستان میں دہشتگردی کیلئے اپنی سرزمین کا استعمال روکیں، ترلائی خود دھماکے، باجوڑ خود کش دھماکوں سمیت دیگر واقعات میں افغانستان ملوث رہا، یہ سب چیزیں ہونے کے بعد ہم نے آپریشن غضب للحق کا فیصلہ کیا۔
ان کا کہناتھا کہ افغان طالبان رجیم کیخلاف آپریشن میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، اسحاق ڈار نے پاکستان میں دہشتگردی روکنے کے حوالے سے بات چیت کیلئے افغانستان کے 3 دورے کیے، افغان طالبان کی جانب سے دہشتگردی روکنے کی یقین دہانی تک آپریشن جاری رہے گا۔
طارق فضل چوہدری کا کہناتھا کہ ایران کے حوالے سے پاکستان نے واضح مؤقف اپنایا، چاہتے ہیں خطے میں تناؤ کی شدت میں کمی کی جائے۔

