وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ کا کہنا ہے کہ افغان عوام اور عبوری حکومت کے درمیان بڑا خلا موجود ہے، افغانستان کو درپیش بیشتر مسائل عسکریت پسندانہ ذہنیت کا نتیجہ ہیں۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب عطاتارڑ نے کہا کہ افغان عوام تعلیم، اجتماع، انجمن سازی اور معاشی آزادی سمیت بنیادی حقوق کے مستحق ہیں، افغان عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلے میں اپنی آواز اور اختیار ملنا چاہیے، افغان عبوری حکومت کو عسکریت پسندانہ ذہنیت سے نکل کر عوام کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغان آبادی بڑی تعداد میں نوجوانوں پر مشتمل ہے، افغان خواتین کی بڑی تعداد افرادی قوت کا حصہ نہیں، افغانستان میں آبادی کے بعض طبقات کو معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کے مواقع نہیں مل رہے، افغان عوام کے بعض طبقات کو بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
عطاتارڑ نے کہا کہ افغانستان میں امن سے پورے خطے میں استحکام اور ترقی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، خطے میں امن سے تجارت کو فروغ اور سرمایہ کاری کو تقویت ملے گی، صرف امن ہی خوشحالی کی بنیاد بن سکتا ہے، پاکستان امن اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کو عسکریت پسندانہ سوچ سے نکلنا ہوگا، خود بھی جیو اور دوسروں کو بھی جینے دو،کے اصول کو اپنانا ہوگا، کسی بھی جارحیت کا جواب شدت سے دیا جائے گا۔ افغانستان کو درپیش بیشتر مسائل عسکریت پسندانہ ذہنیت کا نتیجہ ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغانستان میں تجارت اور علاقائی رابطوں کے فروغ کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، افغانستان میں امن سے وسطی ایشیا سے پاکستان تک تجارتی راستے کھولنے میں مدد مل سکتی ہے، وسطی ایشیائی ریاستیں افغانستان کے راستے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔

