مدینہ منورہ: پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ فکری دہشت گردی عملی دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے، اسلام اور جہاد کے نام پرنوجوانوں کو گمراہ کرنے والی قوتوں کا مقابلہ کرنا ہوگا، اسلام امن اور انسانی حرمت کا دین ہے، بے گناہ انسانوں کے قتل کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔
علامہ طاہر اشرفی نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فکری دہشت گردی عملی دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے، فکری دہشت گردی کے سدباب کیلئے علماء، مشائخ،جامعات، مدارس،مذہبی قوتوں،حکومتوں کو ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔
طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ اسلام اور جہاد کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کرنے والی قوتوں کا بلاخوف و مصلحت فکری مقابلہ کرنا ہوگا، مسلم نوجوانوں کو اسلام اورجہاد کے نام پر گمراہ کرنے والوں نے مسلم دنیا کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ ہم 45 سال سےحالتِ جنگ میں ہیں اور آج تک ایک لاکھ پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں، ان تمام قوتوں کا راستہ روکنا ہوگا جو مذہب، اسلام اور جہاد کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں، اسلام امن، اعتدال، عدل اور انسانی حرمت کا دین ہے، دہشت گردی، انتہاپسندی اوربے گناہ انسانوں کے قتل کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔
علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ فکری انحراف کا مقابلہ صرف سکیورٹی اقدامات سے نہیں بلکہ تعلیم،علم، مکالمےسے کرنا ہوگا۔
اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ حوثی تنظیم یمن میں بے گناہ انسانوں کو قتل کرتی ہے، جس طرح فلسطینیوں قتل ناقابلِ قبول ہے، اسی طرح یمن میں بےگناہ انسانوں کا خون بہانا بھی قابلِ مذمت ہے، حوثی اسلام اور فلسطین کا نام لیتے ہیں،لیکن اسرائیلی جہازوں کو راستہ اور سعودی جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ حوثیوں کے ایسے طرزِعمل کا اسلام،اسلامی اخلاق اور فلسطینی عوام کی حقیقی حمایت سے کوئی تعلق نہیں، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت،سلامتی اور امن پوری امتِ مسلمہ کیلئے مقدم ہے، عالمِ اسلام کے علماء، مفتیان اور مشائخ کا واضح اور متفقہ مؤقف ہے کہ حرمین شریفین یاارضِ حرمین کی سلامتی پر حملہ پوری امتِ مسلمہ کیلئے ناقابلِ قبول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اوریمن کی حکومت کو اپنے عوام، سرزمین اورامن و سلامتی کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات کا حق حاصل ہے، ارضِ حرمین شریفین کے امن، استحکام اور دفاع کیلئے ہم مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں، فکری انحرافات،انتہاپسندی اوردہشت گردی کے مقابلے کیلئے کی سعودی عرب کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
کانفرنس سے امام کعبہ،مختلف اسلامی ممالک کے علماء، مفتیانِ کرام اورممتاز اسلامی شخصیات نے خطاب کیا۔

