بدھ, جولائی 29, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںشہداءزیارت کے لواحقین کے ساتھ لیویز کی بحالی کے حوالے سے کوئی...

شہداءزیارت کے لواحقین کے ساتھ لیویز کی بحالی کے حوالے سے کوئی مطالبہ نہیں تھا، صوبائی وزراء

کوئٹہ (آن لائن) صوبائی وزراءپاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میرظہور احمد بلیدی،بلوچستان عوامی پارٹی کے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو،پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی اور مشیر کھیل مینا مجید بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت امن کی بحالی کو یقینی بناتے ہوئے قومی شاہراہوں کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات اٹھارہی ہے شہداءزیارت کے لواحقین کا لیویز کی بحالی کا کوئی مطالبہ نہیں تھا سیف سٹی پروجیکٹ کے کیمروں کو ہڑتالوں کے دوران پہنچنے والے نقصانات کے بعد ان کی بہتری عمل میں لائی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو وزیرا علیٰ سیکرٹریٹ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی صدارت میں منعقدہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دےتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں 26 ایجنڈے زیر غور آئے اور اجلاس کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کی روح کی ایصال ثواب کے لئے دعا کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا صوبائی وزراءنے بتایا کہ حکومت بلوچستان کی تعمیر و ترقی اور امن کی بحالی کیلئے کوشاں ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہی ہے ہماری کوشش ہے کہ امن کی بحالی کو یقینی بناتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے اور عوام سمیت نوجوانوں کو سہولیات کی فراہمی کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے اس لئے حکومت نے ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ذریعے نوجوانوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے لئے اسکالرشپ کی منظور دی گئی اس کے علاوہ تعمیر نو سکول کالج کو صوبائی کابینہ نے جامعہ کا درج دیاہے اور بلوچستان میں امن کی بحالی اور پولیس لیویز کے حوالے سے پائی جانے والی تفریق کو ختم کرتے ہوئے اے اور بی ایریا کی کنفیوژن کو ختم کردیا ہے صوبائی کابینہ نے پلاننگ منول کا اعلان کیا ہے جس سے بہت سی چیزیں بہتری کی جانب بڑھیں گی اور اس سے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ہرنائی سبی روڈ کی تعمیر کے لئے 15 ارب روپے وفاقی حکومت جبکہ باقی دیگراخراجات صوبائی حکومت برداشت کریگی جس کا مقصد اس روڈ کی بروقت تعمیر کو یقینی بناتے ہوئے لوگوں کو بہتر محفوظ سفری سہولیات فراہم کرنا ہے اور ان علاقوں میں ترقی کا نیا باب کھلے گا۔ اس کے علاوہ بلوچستان کیڈیٹ کالج بورڈ میں ردوبدل کیا گیا ہے جس کا مقصد تعلیمی شعبے کی بہتری اور بلوچستان میں اس وقت 11 کیڈیٹ کالج موجود ہیں جہاں پر بلوچستان کے بچوں اور بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے علاوہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق جدید علوم کی فراہمی ممکن بنائی جارہی ہے ۔ صوبائی وزراءنے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے چائلڈ پروٹیکشن رول بنایا ہے جس پر عملدرآمد کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے اور اس کے آنے والے وقت میں چائلڈ پروٹیکیشن کے حوالے سے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ بلوچستان میں نئی تحصیل بنانے کی منظوری دی گئی ہے جس سے لوگوں کو سہولیات میسر آئیں گی ۔ صوبائی وزراءنے بتایا کہ بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیںتاکہ لوگوں کے جان و مال کے تحفظ اور کاروباری سرگرمیوں کو بہتر بنایاجاسکے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ وہ حکومت میں نہیں آئے گی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وزیر اعلی بننے کی خواہش ظاہر نہیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات اور واقعات کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور انہیں سمجھ کر بہتر بنانے کے لئے حکومت اور ادارے اپنا کام کررہے ہیں اس لئے بلوچستان میں حالات کو معمول پر لانے کے لئے غیر معمولی اقدامات کرنے ہونگے صوبائی وزراءنے کہا کہ بلوچستان کے علاقے شعبان میں سیکورٹی فورسز کو بڑی کامیابی ملی ہے بلوچستان میں دہشتگردی کے نیٹ ورک کو توڑاجائےگا تاکہ امن کا قیام ممکن بنایا جاسکے اس لئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بلوچستان کی تمام قومی شاہراہوں کو سفر کیلئے محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔اس موقع پرصوبائی وزیر ظہور بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث دہشت گردوں کی ہمسایہ ملک معاونت کررہا ہے دہشت گرد جہاں بھی ہوں گے ان کا خاتمہ کریں گے بلوچستان کی تمام شاہراہوں کو محفوظ بنایاجارہا ہے۔ وزیر داخلہ بلوچستان میرضیاءاللہ لانگو نے کہا ہے کہ شہداءزیارت کے لواحقین کے ساتھ لیویز کی بحالی کے حوالے سے کوئی مطالبہ نہیں تھااور نہ ہی انہیں اس حوالے سے کوئی یقین دہانی کرائی گئی ہے احتجاج میںاپوزیشن کو کہا تھا کہ آپ کی پارٹیاں پارلیمنٹ کا حصہ ہے وہ لابنگ کرکے اسمبلی میں بل لائےں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت شہر میں لگے ہوئے کیمروں کو ہڑتالوں میں نقصان پہنچایاگیاہے جن کی مینٹیننس اور تبدیلی کا ممکن بناکر جرائم اور دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!