برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ امن معاہدے کے پہلے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر ہونے والے معاہدے کی خبر کا خیرمقدم کرتا ہوں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ بے حد اطمینان بخش لمحہ ہے، جو پوری دنیا میں محسوس کیا جائے گا، بالخصوص یرغمالیوں، ان کے خاندانوں اور غزہ کے عام شہریوں کے لیے جنہوں نے گزشتہ دو برسوں میں ناقابلِ تصور مصائب برداشت کیے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اب اس معاہدے پر بلاتاخیر مکمل عمل درآمد کیا جانا چاہیے اور غزہ میں زندگی بچانے والی انسانی امداد پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جانی چاہئیں، ہم تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں پر قائم رہیں، جنگ ختم کریں اور ایک منصفانہ و پائیدار امن کی بنیاد رکھیں‘۔
کینیڈا کی وزارتِ خارجہ (گلوبل افیئرز کینیڈا) نے ایک بیان میں کہا کہ ’کینیڈا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے جس میں قطر، مصر اور ترکیہ نے سہولت کار کا کردار ادا کیا‘۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دو طویل برسوں کے بعد یرغمالی اپنے خاندانوں سے دوبارہ مل سکیں گے اور اسرائیلی افواج طے شدہ لائن کے پیچھے ہٹ جائیں گی، غزہ میں شدید ضرورت مند عوام کے لیے فوری اور بلا روک ٹوک انسانی امداد فراہم کی جانی چاہیے‘۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ ’کینیڈا ان تمام کوششوں کی حمایت کرے گا جو اس مثبت قدم کو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان دیرپا امن میں تبدیل کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں‘۔
آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے وزیرِ خارجہ پینی وونگ کے ساتھ ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا کہ ’آسٹریلیا، ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کا خیرمقدم کرتا ہے کہ اسرائیل اور حماس نے غزہ میں امن لانے کے منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’دو سال سے زیادہ عرصے کی جنگ، یرغمالیوں کی قید اور عام شہریوں کی تباہ کن ہلاکتوں کے بعد یہ امن کی طرف ایک نہایت ضروری قدم ہے، آسٹریلیا مستقل طور پر جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں امداد کے آزادانہ بہاؤ کے لیے عالمی مطالبات کا حصہ رہا ہے، ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ منصوبے کی شرائط کا احترام کریں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’آسٹریلیا اس بات کی پُرزور حمایت کرتا ہے کہ منصوبے میں حماس کو غزہ کی مستقبل کی حکمرانی میں کسی بھی کردار سے روکا جائے، غزہ میں بحالی کا سفر طویل ہے، وہاں دیرپا امن اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے طویل المدتی کام درکار ہے، اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر آسٹریلیا ایک منصفانہ اور پائیدار دو ریاستی حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا‘۔
نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے ایک بیان میں کہا کہ ’حماس کو تمام یرغمالیوں کو رہا کرنا چاہیے اور اسرائیل کو اپنی افواج کو طے شدہ لائن تک پیچھے ہٹا لینا چاہیے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ دیرپا امن کے قیام کی سمت ایک بنیادی پہلا قدم ہے، ہم اسرائیل اور حماس دونوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایک مکمل حل تک پہنچنے کے لیے اپنے اقدامات جاری رکھیں‘۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے بیان میں کہا کہ ’میں صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے پیش کردہ مجوزہ منصوبے کی بنیاد پر غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے طے پانے والے معاہدے کے اعلان کا خیرمقدم کرتا ہوں، میں امریکا، قطر، مصر اور ترکیہ کی ان سفارتی کوششوں کی تعریف کرتا ہوں جن کی بدولت یہ نہایت ضروری پیش رفت ممکن ہوئی‘۔
انہوں نے کہا کہ ’میں تمام فریقین پر زور دیتا ہوں کہ وہ معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل طور پر عمل کریں، تمام یرغمالیوں کو باعزت طریقے سے رہا کیا جانا چاہیے، ایک مستقل جنگ بندی لازمی ہے، لڑائی کو ہمیشہ کے لیے بند ہونا چاہیے، غزہ میں انسانی امداد اور بنیادی تجارتی سامان کی فوری اور بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہیے، یہ اذیت ختم ہونی چاہیے‘۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اقوامِ متحدہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی حمایت کرے گا، مستقل انسانی امداد کی فراہمی میں اضافہ کرے گا اور غزہ میں بحالی و تعمیرِ نو کے اقدامات کو آگے بڑھائے گا‘۔
انہوں نے کہا کہ ’میں تمام فریقین پر زور دیتا ہوں کہ وہ اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائیں، تاکہ ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کے ذریعے قبضے کے خاتمے، فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے اعتراف، اور ایک دو ریاستی حل کی طرف پیش رفت ہو سکے جس سے اسرائیلی اور فلسطینی امن و سلامتی کے ساتھ رہ سکیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت حالات پہلے سے کہیں زیادہ نازک ہیں‘۔

