ہفتہ, نومبر 7, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںموجودہ نظام میں آئین اور عدلیہ مفلوج ہو چکے ہیں، ممتاز قانون...

موجودہ نظام میں آئین اور عدلیہ مفلوج ہو چکے ہیں، ممتاز قانون دان علی احمد کرد کی کوئٹہ میں پریس کانفرنس

کوئٹہ:ممتاز قانون دان اور وکلا رہنما علی احمد کرد نے ملک میں آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور بلوچستان میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے وکلا نے ہمیشہ تاریخی جدوجہد کی ہے۔کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی احمد کرد نے کہا کہ ماضی میں ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں بھی وکلا نے بے مثال قربانیاں دیں، تاہم موجودہ دور میں عدلیہ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں پسند کے ججز کی تعیناتی سے سب سے پہلے وکالت کا شعبہ متاثر ہوتا ہے۔ پہلے کے دور میں انصاف کے لیے عدالتوں کا رخ کیا جاتا تھا لیکن آج فیس لیس عدالتوں کے ذریعے فیصلوں اور صحافیوں پر پیکا ایکٹ کے تحت پابندیوں نے آئینی و قانونی ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے۔سینیٹر کامران مرتضی سے متعلق بات کرتے ہوئے علی احمد کرد نے کہا کہ کامران مرتضی کی بلوچستان اور قانون کی حکمرانی کے لیے خدمات ڈھکی چھپی نہیں۔ انہیں مہاجر قرار دینا اور ان کے بھائی کے روزگار کو نشانہ بنانا مضحکہ خیز ہے۔ کامران مرتضی کو اکیلا سمجھنے والے غلط فہمی کا شکار ہیں؛ وکلا برادری کے پاس اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن ملکی حالات کے پیشِ نظر ضبط سے کام لیا جا رہا ہے۔انہوں نے بلوچستان کی امن و امان کی حالت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب لاشیں نہ گرتی ہوں، کوئٹہ کراچی شاہراہ پر سفر غیر محفوظ ہو چکا ہے اور لوگ سالہا سال سے لاپتہ ہیں۔ جب عوام بھوک، افلاس اور بے تحاشا مہنگائی کا شکار ہوں گے تو امن کیسے قائم ہو سکتا ہے؟ اس کے علاوہ طلبہ کے انڈومنٹ فنڈز کی دوسرے شعبوں میں منتقلی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔علی احمد کرد نے سیاسی قیدیوں کی صورتحال اور انسانی حقوق پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اڈیالہ جیل میں قید سیاسی کارکنان اور رہنماں نے سزاں کے باوجود معافیاں نہیں مانگیں۔ عمران خان کے مقدمات کی اپیلوں پر سماعت نہ ہونا اور ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ، گلزادی بلوچ، ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف اقدامات ملک میں مزید تفریق اور نفرتیں پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جائے اور طاقت کے بے جا استعمال کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!