اسلام آباد: پاکستان میں تقریباً 2 دہائیوں بعد سمندر میں تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے جارہی ہیں اور ترک پیٹرولیم آف شور کمپنی (TPOC) کا خصوصی سیسمک سروے جہاز 17 سے 20 نومبر کے درمیان کراچی پہنچے گا۔
ترکیہ نے مشرقی آف شور انڈس سی بلاک کی آپریٹرشپ حاصل کرلی ہے جس کے تحت مشترکہ منصوبے میں ترک کمپنی کے 25 فیصد، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے 35 فیصد جب کہ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی ایل) اور میری انرجیز کے 20، 20 فیصد حصص ہوں گے۔
ترک جہاز سمندر کی تہہ کے نیچے موجود ارضیاتی ساختوں کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی سیسمک سروے کرے گا جس سے ممکنہ تیل و گیس کے ذخائر کی نشاندہی اور مستقبل میں کھدائی کے لیے موزوں مقامات کے تعین میں مدد ملے گی تاہم سروے سے تجارتی بنیادوں پر قابلِ حصول ذخائر کی موجودگی ثابت نہیں ہوگی اور اس کے لیے مزید کھدائی اور تکنیکی و تجارتی جائزہ درکار ہوگا۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے جمعہ کو اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ترک جہاز کی آمد اور سروے کے آغاز کی تیاریوں کا جائزہ لیا اور متعلقہ اداروں کو سمندری اجازت ناموں، بندرگاہی کارروائیوں، سکیورٹی، آپریشنل انتظامات اور دیگر ضروری امور بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے پاک ترک توانائی تعاون میں اس پیش رفت کو تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جہاز کی کراچی آمد پر خود اس کا استقبال کرنے کی کوشش کریں گے۔
وزیر پیٹرولیم نے ترک وفد کو مکمل سرکاری تعاون کی یقین دہانی کرائی جب کہ ترک کمپنی کے پروجیکٹ منیجر نے پاکستانی اداروں کے تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سروے مہم کی کامیابی کے لیے امید ظاہر کی۔
اجلاس میں سیکرٹری پیٹرولیم، ڈی جی پیٹرولیم کنسیشنز، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور گورنمنٹ ہولڈنگز کے سربراہان سمیت وزارت خارجہ، دفاع، داخلہ، میری ٹائم افیئرز، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور متعلقہ بحری و بندرگاہی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
پاکستان توانائی کی بڑھتی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی تیل و گیس پر انحصار کررہا ہے، ایسے میں آف شور ذخائر کی تلاش کی یہ نئی کوشش کامیاب ہونے کی صورت میں ملکی توانائی کے وسائل میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔

