تحریر صدیق بلوچ
بلوچستان اپنے روایات خاندانی اقدار اور مہمان نوازی کے حوالے سے ایک منفرد شناخت رکھتا ہے
بلوچستان میں خواتین کو عزت و احترام دینا ایک اہم سماجی قدر ہے
لیکن بلوچستان کے دیہی و قبائلی علاقوں میں یہی روایتی ڈھانچہ خواتین کی آزادی تعلیم اور فیصلہ سازی کے راستے میں رکاوٹ بھی بن جاتا ہے
صنفی مساوات اور سماجی امور کے ماہرین کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں دیہی و شہری آبادیوں قبائل خاندانوں اور معاشی طبقات میں خواتین کے حالات مختلف ہیں لیکن تعلیم صحت اور سیاسی نمائندگی میں خواتین یکساں طور پر پیچھے ہیں
گو کہ ترقی یافتہ شہروں میں خواتین تعلیم اور طب سمیت متعدد شعبوں میں نمایاں کردار ادا تو کر رہی ہیں لیکن دیہی و قبائلی علاقوں کے خواتین کو غربت تعلیمی صحت کے سہولتوں میں کمی اور سماجی پابندیوں سمیت بہت سے امور میں صنفی امتیاز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
صنفی امتیاز کا مطلب کسی شخص کی جنس یا صنف کی بنیاد پر تعصب یا امتیاز برتنا ہے اس میں ایک صنف کو فطری یا پیدائشی طور پر دوسری صنف سے بہتر سمجھا جائے
سماجی و صنفی امور کے تناظر میں بلوچستان کے قبائلی و دیہی معاشروں میں صنفی امتیاز اور سماجی رکاوٹیں خواتین کی راستوں کی دیوار بنی ہوئی ہیں کیونکہ ان علاقوں میں لڑکیوں کی پیدائش سے زیادہ خوشی لڑکوں کی پیدائش پر کی جاتی ہے اور لڑکوں کو لڑکیوں پر فوقیت حاصل ہے
ان علاقوں میں خواتین کو احترام تو بہت دیا جاتا ہے لیکن اسے جائیداد تعلیم وراثت ووٹ کے استعمال سمیت زندگی کے اہم فیصلوں میں رائے دینے کا حق بہت کم حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی دباو اور تشدد کا سامنا کرنا بھی پڑتا ہے
بلوچستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کی وجوہات باہم مربوط ہیں
غربت تعلیم کے محدود مواقع صنفی عدم مساوات سماجی دباو اور خواتین کی معاشی خود مختاری میں رکاوٹیں اس مسئلے کو پیچیدہ بناتی ہیں
بالخصوص دیہی و قبائلی علاقوں میں تعلیم و صحت صحت کی سہولیات اور قانونی معاونت سمیت شکایات درج کرانے کے موثر زرائع تک محدود رسائی متاثرہ خواتین کے مشکلات کو بڑھا سکتی ہیں نتیجتا تشدد کے تمام واقعات سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں بن پاتے جس سے مسئلے کی حقیقی وسعت کا تعین بھی مشکل ہوجاتا ہے اس صورتحال کی تصدیق رپورٹ ہونے والے واقعات کے اعداد و شمار سے ہوتی ہے
سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 2024 کے دوران گھریلو تشدد کے 160 اغوا کے 185 ریپ کے 21 اور نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے 32 واقعات رپورٹ ہوئے
دوسری جانب بلوچستان کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (BCSW) اور اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے خواتین (UN Women) کے تعاون سے تیار کردہ Balochistan Gender Parity Report 2024 کے مطابق 2024 میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 334 نئے مقدمات درج ہوئے جبکہ سال کے اختتام پر 187 مقدمات زیرِ التوا تھے یہ اعداد عدالتی کارروائی میں تاخیر اور خواتین کو بروقت انصاف فراہم کرنے کی ضرورت کو نمایاں کرتے ہیں
جبکہ عورت فاؤنڈیشن بلوچستان کی سالانہ رپورٹ 2025 کے مطابق جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران صوبے میں خواتین کے خلاف تشدد کے 123 سنگین واقعات رپورٹ ہوئے رپورٹ کے مطابق 65 خواتین قتل ہوئیں جن میں 33 کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا جبکہ خواتین کے اغوا جنسی تشدد ہراسانی اور گھریلو تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے اسی سال خواتین اور بچوں کے سہولت مرکز کو 129 شکایات موصول ہوئیں جن میں 37 گھریلو تشدد اور 35 ہراسانی سے متعلق تھیں
پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد (GBV) کے رپورٹ شدہ واقعات کی تعداد کے لحاظ سے بلوچستان چاروں صوبوں میں چوتھے نمبر پر ہے SSDO کی 2024ء کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 398 واقعات رپورٹ ہوئے جو چاروں صوبوں میں سب سے کم تعداد ہے
تینوں رپورٹس کے اعداد مختلف ادارہ جاتی ریکارڈ اور طریقۂ شمار پر مبنی ہیں اس لیے انہیں الگ الگ سمجھنا ضروری ہے
یہ اعداد صرف رپورٹ شدہ واقعات کی عکاسی کرتے ہیں
جبکہ سماجی دباؤ بدنامی کے خوف معاشی انحصار اور قانونی معاونت تک محدود رسائی کے باعث بہت سے واقعات منظرِ عام پر نہیں آ پاتے
کیونکہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں خاندانی دباؤ بدنامی کا خوف انتقامی کارروائی کا خدشہ اور معاشی انحصار خواتین کے لیے تشدد کے خلاف آواز اٹھانے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں دور دراز علاقوں میں پولیس عدالت ہسپتال قانونی معاونت اور محفوظ پناہ گاہوں تک رسائی کی مشکلات بھی متاثرہ خواتین کی پریشانیوں میں اضافہ کرتی ہیں
سول سوسائٹی کے رہنما رضا محمد کے مطابق کسی بھی معاشرے کی ترقی میں خواتین کے کردار اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا
بلوچستان میں خواتین کو ملنے والی عزت و تکریم سے انکار نہیں کیا جاسکتا
لیکن بدقسمتی سے بلوچستان کے بعض قبائلی و دیہی معاشروں میں آج بھی خواتین قدیم فرسودہ روایات اور رسوم کے تحت صنفی امتیاز کے باعث بدترین طرز زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
لیکن اب سوشل میڈیا کی بدولت اس میں کمی آرہی ہے اور اب آہستہ آہستہ ان معاشروں کو بھی آگہی مل رہی ہے
وہ سمجھتے ہیں کہ عورت کی عزت صرف اس کی حفاظت کرنے میں نہیں بلکہ اس کی آواز سننے اس کے حق کو تسلیم کرنے اور اسے اپنی صلاحیتوں کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع دینے میں بھی ہے
اس بناء پر خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے ان علاقوں میں تعلیم اور شعور سمیت مزید آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے اس مقصد کے لیے حکومت سول سوسائٹی اور میڈیا کو مل کر کام کرنا ہوگا جس سے روایتی وقار کو سماجی انصاف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں مدد ملیگا
عالمِ دین مولانا محمد بخش کے مطابق اسلامی قوانین تمام شہریوں کے لیے برابری مساوات اور عدل و انصاف کی ضمانت فراہم کرتے ہیں قرآن و سنت کی روشنی میں اسلام نے عورت کو علم عزت تحفظ وقار وراثت اور دیگر بنیادی حقوق عطا کیے ہیں
اسلام ہر قسم کے تشدد ظلم جبر اور صنفی امتیاز کی مذمت کرتا ہے اور عورت کی جان عزت و حرمت کے تحفظ اور اس کے حقوق کی ادائیگی پر زور دیتا ہے تاکہ معاشرے میں ہر فرد کو انصاف احترام اور مساوی انسانی وقار حاصل ہو
قبائلی رہنما شیرجان کہتے ہیں کہ قبائلی اور دیہی معاشروں میں رسم و رواج روایات اور خاندانی نظام کو ہمیشہ سے خاص اہمیت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی قوانین سے زیادہ جرگہ سسٹم اور روایت پر یقین رکھا جاتا ہے
خاندان اور برادری کے فیصلوں کو اہم اور بزرگوں کی رائے کو حتمی حیثیت حاصل ہوتی ہے جس بناء پر بعض خواتین کو زندگی کے بہت سے امور میں صنفی امتیاز جیسے تعلیم سے دوری ملازمت میں عدم مساوات سیاسی میدان اور فیصلہ سازی میں بے اختیاری اور جائیداد سے محرومی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے
ان کا کہنا ہے کہ جرگہ سسٹم اور قبائلی روایات ہماری معاشرتی شناخت کا حصہ ہیں، لیکن ان کا مقصد انصاف امن اور اتفاقِ رائے کو فروغ دینا ہونا چاہیے نہ کہ کسی کے حقوق کو محدود کرنا
اس لیے قبائلی اور دیہی معاشروں میں خواتین کو درپیش صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے ہمیں اپنی روایات اور رسم و رواج کو مثبت انداز میں اپنانے کے ساتھ ساتھ خواتین کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا اس مقصد کے لیے قبائلی عمائدین علمائے کرام اساتذہ اور نوجوانوں اور میڈیا کو مل کر ان علاقوں میں شعور بیدار کرنا ہوگا کہ خواتین کو حقوق دینا ہماری روایات کے خلاف نہیں بلکہ ایک منصفانہ اور مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے
ماہر قانون محمد عثمان کے مطابق صنفی امتیاز و تشدد انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلوچستان میں گھریلو تشدد کی روک تھام اور تحفظ کے لیے 2014ء کا قانون اور خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ دینے کے لیے 2016ء کا قانون موجود ہے
لیکن بدقسمتی سے کچھ قبائلی و دیہی ایریاز میں حکومتی قوانین پر عملدرآمد سے زیادہ جرگہ سسٹم کے فیصلوں پر عمل ہونے کے باعث متاثرہ خواتین کو تحفظ مجرموں کو قانون کے مطابق جواب دہی اور خواتین کو مساوی مواقع فراہم نہیں کیے جاتے
جس بناء پر صنفی امتیاز و تشدد کے خاتمے کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے
اس لیے ضروری ہے کہ متاثرین کو تشدد اور امتیازی سلوک سے تحفظ کے ساتھ ساتھ قانونی مدد اور انصاف فراہم کرکے ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے تاکہ معاشرے میں صنفی امتیاز و تشدد کا خاتمہ ہو
ڈاکٹر انیلا جو بلوچستان کے متعدد علاقوں میں کام کر چکی ہیں ان کے مطابق ان کے پاس علاج کے لیے آنے والے صنفی امتیاز و تشدد کے شکار خواتین جسمانی ذہنی اور نفسیاتی صحت بری طرح متاثر دکھائی دیتی تھی
ایسے خواتین کو جسمانی چوٹوں مسلسل درد نیند کی کمی خوف ڈپریشن ذہنی دباؤ اور خود اعتمادی میں کمی جیسے مسائل کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ
خاندانی زندگی سماجی تعلقات اور روزمرہ معمولات کے متاثر ہونے کی شکایت کے بعد مسلسل ادویات کے استعمال کے باوجود انھیں مکمل تندرست ہونے میں عرصہ لگتے دیکھا
ان کے مطابق ایسی خواتین کو بروقت طبی علاج نفسیاتی مشاورت محفوظ ماحول اور خاندان و معاشرے کی معاونت فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ ذہنی و جسمانی صحت بحال کرکے ایک بہتر زندگی گزار سکیں
لیکن بدقسمتی سے ان علاقوں میں ایسے متاثرہ خواتین کو طبی سہولیات کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس بناء پر ان کی باقی زندگی مختلف جسمانی اور زہنی بیماریوں سے لڑتے ہوئے گزرتی ہے جو کہ ایک المیہ ہے اس لیے ضروری ہے کہ خواتین کو مساوی حقوق بہتر طبی سہولیات تحفظ اور عزت و احترام فراہم کیا جائے تاکہ وہ ایک صحت مند اور بااختیار زندگی گزار سکیں
مختلف ملکی میڈیا آرگنائزیشن کے لیے کام کرنے والے سینئیر صحافی صادق بلوچ کے مطابق بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں
سیکورٹی کی صورتحال محدود وسائل معلومات تک محدود رسائی اور ادارہ جاتی تحفظ کی کمی کے باعث صحافیوں کے لیے متاثرین کی آواز بننا مشکل ہو جاتا ہے
لیکن اس کے باوجود بعض صحافی حضرات صنفی امتیاز اور تشدد کے خلاف رپورٹنگ حساس معاملات کو اجاگر اور آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ متاثرہ خواتین کے شناخت کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے واقعات کی زمے دارانہ رپورٹنگ کرکے اداروں کی توجہ مبزول کرانی کی کوشیش کرتی ہیں تو انھیں شدید دباؤ دھمکیوں ہراسانی اور سماجی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے ان صحافیوں کی آزادانہ رپورٹنگ اور انصاف کے حصول کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں
جس بناء پر ایسے واقعات مکمل رپورٹ ہو نہیں پاتے اور متاثرین کو انصاف نہیں مل پاتا اس لیے ضروری ہے
ان واقعات کے تدارک کے لیے حکومتی ادارے قبائلی عمائدین اساتذہ والدین علماء سول سوسائٹی اور میڈیا کو مل کر صنفی امتیاز و تشدد کے خلاف کام کرنا چاہیے
صنفی مساوات اور سماجی ترقی کے ماہرین کے مطابق کہ ان علاقوں میں تعلیمی اداروں صحت کی سہولتوں آمدورفت اور پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی بہتر بنانا کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کے روایات اور جدید تقاضوں کے درمیان تصادم پیدا کرنے کے بجائے ان میں مثبت ہم آہنگی پیدا کی جائے
بلوچ معاشرے کی مثبت روایات کو برقرار رکھتے ہوئے خواتین کے حقوق تعلیم اور خودمختاری کو فروغ دینے کے لیے ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں ثقافتی اقدار اور انسانی حقوق ایک دوسرے کے معاون بن سکیں
( خاندانی مصالحت یا روایتی ثالثی کو سنگین جرائم کی قانونی کاروائی کا متبادل نہ بنایا جائے )
یہ تبدیلی باہر سے مسلط کرنے کے بجائے مقامی ضروریات ثقافتی حساسیت اور معاشرتی مکالمے کو سامنے رکھ کر لائی جانی چاہیے
تاکہ بلوچ ثقافت کی مثبت روایات خاندانی تعاون اور اجتماعی ذمہ داری کو خواتین کی ترقی کے لیے قوت بنایا جا سکتا ہے

