منگل, اکتوبر 20, 2026
ہومکالمپیدائش سے پہلے قسمت کا فیصلہ ( ماز لافی )

پیدائش سے پہلے قسمت کا فیصلہ ( ماز لافی )

پیدائش سے پہلے قسمت کا فیصلہ ( ماز لافی )
تحریر صدیق بلوچ
سندھ پنجاب اور بلوچستان کی سرحدی پٹی پر واقع کچھ علاقوں میں بسنے والے خاندانوں میں آج کے جدید دور میں ماز لافی نامی ایک فرسودہ رسم قائم و دائم ہے
اس رسم کے تحت رشتہ طے کرتے وقت لڑکی والے لڑکے کے خاندان سے ایک معاہدہ کرتے ہیں کہ ان کی بیٹی سے پیدا ہونے والی پہلی بیٹی بعض میں بیٹیاں پیدا ہونے کے بعد نانا اور ماموں کے ملکیت ہونگئے
وہ جہاں پر چاہیں ماں باپ اور بچی کی مرضی کے بغیر ان کا رشتہ طے کردیں
اس معاہدے یا رسم کو مقامی زبان میں ماز لافی ( یعنی ماں کا پیٹ ) کہا جاتا ہے
انٹرنیٹ اور شعور کے اس دور میں قدرتی طور پر یہ رسم کم تو ہوئی ہے لیکن ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی
اس فرسودہ رسم کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ایک ایسی زندگی کے بارے میں فیصلہ کر لیا جاتا ہے جو شاید ایک دو دہائی بعد دنیا میں قدم رکھے
اور شعور کی سیڑھی پر قدم رکھنے کے بعد اسے پتہ چلے کہ اس کی تعلیم مستقبل خواہشات اور زندگی کا انتخاب اس کے اپنے یا اس کے ماں باپ کے پاس نہیں بلکہ دو دہائی قبل ہونے والے ایک معاہدے کے تحت کسی اور کے پاس ہیں
تو یہاں سوال صرف ایک پرانی روایت کا نہیں بلکہ انسانی وقار بچوں کے حقوق اور اس بنیادی اصول کا ہے کہ کوئی انسان کسی دوسرے انسان کی ملکیت نہیں ہو سکتا
کیا ایک بچی کے مستقبل کا فیصلہ اس کی پیدائش سے برسوں پہلے کیا جا سکتا ہے؟ کیا خاندانوں کے درمیان طے پانے والی شرط اس کی تعلیم تحفظ اور اپنی زندگی کے بارے میں رائے دینے کے حق سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے اور اگر اس روایت کے نتیجے میں کسی لڑکی کو کم عمری کی شادی یا اپنی مرضی کے خلاف جسمانی یا زہنی معزور شخص کے ساتھ زندگی گزارنے کا سامنا ہو تو اس کی ذمہ داری کون اٹھائے گا
یہ سوالات اس رسم کو محض خاندانی معاملہ سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے اس کے سماجی قانونی اور انسانی پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ضرورت واضح کرتے ہیں

گل ناز ایک پڑھی لکھی خاتون ہیں جو اس معاہدے کے تحت اپنے ماموں زاد کے ساتھ کم عمری میں بیاہ دی گئی
انکے شوہر واجبی تعلیم کے حامل ہیں
گل ناز کہتی ہیں کہ سہولتوں سے مزین شہری زندگی سے پہاڑی علاقے کا سفر بظاہر ان کے لیے بھیانک ہے لیکن اپنے بڑوں کا زبان اور وعدہ قائم رکھنے کے لیے آج وہ یہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کے اس فیصلے میں ان کی والدہ کی مرضی کو بنیادی اہمیت حاصل تھی
وہ کہتی ہیں کہ شادی کے بعد ان کی زندگی کا رخ بدل گیا آج وہ تعلیم اور شہری سہولتوں سے دور محدود وسائل والے دیہی ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
وہ سمجھتی ہیں کہ کسی خاندان کے لیے رشتے طے کرنا ایک سماجی عمل ہو سکتا ہے لیکن غیر پیدا شدہ بچی کے مستقبل کو پہلے سے کسی شرط کے ساتھ باندھ دینا بنیادی انسانی سوالات پیدا کرتا ہے
کیا ایک وعدہ / معاہدہ کسی بچی کے مستقبل سے بڑا ہو سکتا ہے
بچی کوئی زمین جائیداد یا خاندانی اثاثہ نہیں کہ اسے خاندانوں کے درمیان ملکیت کی طرح تقسیم کیا جائے
وہ ایک الگ شخصیت ہےجس کی تعلیم صحت تحفظ جذبات اور مستقبل اپنی اہمیت رکھتے ہیں
گل ناز کی خواہش ہے کہ اس فرسودہ رسم کے تحت کسی اور لڑکی کی زندگی خراب نہ ہو وہ چاہتی ہیں کہ یہ رسم مکمل طور ختم ہو تاکہ کسی بچی کے سہانے خواب ٹوٹ نہ جائیں
ان کی درد بھری کہانی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ فرسودہ روایات کے تحت بعض خاندانی فیصلے ایک لڑکی کے مستقبل کے امکانات کو کس طرح بدل سکتے ہیں
ایک ایسا ماحول جہاں تعلیم اور سہولتوں تک رسائی موجود ہو وہاں سے نکل کر محدود مواقع والی زندگی گزارنا محض رہائش کی تبدیلی نہیں یہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ کیا اس لڑکی کی اپنی خواہشات اور مستقبل کے خوابوں کو فیصلہ کرتے وقت مناسب اہمیت دی گئی

میڈیا کا کردار
سئینر صحافی شوکت علی کے مطابق اس فرسودہ رسم پر کوئی سامنے اور بات کرنے آنے کو تیار نہیں
بشمول متاثرہ خواتین اور ان کے خاندان اور اس رسم کو غلط سمجھنے والے افراد
جس کے باعث پوری دنیا کے سامنے سچ اور حقائق کیسے آئینگئے جبکہ ان کے نزدیک حکومت کے پاس اس مخصوص رسم کے بارے میں اعداد و شمار دستیاب نہ ہونا بھی ایک اہم معلوماتی خلا ہے
ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی صحافی اس رسم پر اپنے تہی کام کریں تو اسے قبائلی دشمنیوں اور نفرتوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے
ایسی صورتِ حال میں میڈیا کیا کرے
شوکت علی کے مطابق معتبرین علماء کرام سول سوسائٹی اور میڈیا پرسن مل کر خاندانوں کے درمیان ایسی شرطوں کی حوصلہ شکنی کے لیے کام کریں اور واضح کریں کہ بچیوں کی تعلیم تحفظ اور مستقبل کو کسی خاندانی وعدے اور معاہدے کے تابع نہیں ہونا چاہیے تو پرانی روایت سے دستبرداری کے لیے سماجی حمایت پیدا ہو سکتی ہے
کیونکہ اس رسم کی حوصلہ شکنی کے لیے محض مذمت یا آگاہی کے چند پیغامات کافی نہیں ضرورت ایک ایسے عملی منصوبے کی ہے جس میں قانونی تحفظ مقامی قیادت تعلیم صحت اور صحافتی نگرانی کو ایک دوسرے سے جوڑا جائے
اور باہم مل کر آواز اٹھانے سے مقصد محض ایک روایت کی مخالفت نہیں رہے گا بلکہ اس کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات اور ان کے نتائج کا جائزہ بھی ممکن ہوگا

سول سوسائٹی کے نمائندے میر جمشیر کے مطابق ماضی میں دور دراز علاقوں کے لوگوں تک معلومات کی رسائی محدود تھی
آج انٹرنیٹ نے سوچ بدلنے کا راستہ کھولا ہے نوجوان نسل سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کے حقوق کم عمری کی شادی کے نقصانات اور دنیا کے مختلف معاشرتی تجربات سے واقف ہو رہی ہے
جس کے باعث بعض خاندانوں میں اس روایت کی پابندی کم ہوتی تو دکھائی دے رہی ہے
لیکن یہ رسم مکمل ختم نہیں ہو پارہی
کیونکہ انٹرنیٹ معلومات کی فراہمی و تبدیلی کا ایک ذریعہ ضرور ہے
مگر صرف انٹرنیٹ کسی روایت کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں
اس کے لیے انھی علاقوں کے نئی نسل میں تعلیم کو اہمیت دینے سے ان میں سوال اٹھانے اور پرانی روایات پر نظرثانی کرنے کا رجحان اس تبدیلی میں موثر کردار ادا کر سکتا ہے

ماہر قانون علی کے مطابق
اس مسئلے کا ایک اہم پہلو قانونی سکم بھی ہے
قانونی ماہرین کے مطابق روایت اور قانون کے درمیان فرق واضح ہے
اور دو خاندانوں کے درمیان ایسی شرط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں
لیکن بدقسمتی سے اس رسم کے خلاف ابھی تک کوئی موثر قانون سازی بھی شاید نہیں ہوئی
دو خاندانوں کی رضامندی سے ہونے والی اس معاہدے اور اس پر عملدرآمد کے دوران خاندان سماجی دباؤ سے خوف زدہ یا اپنے قانونی حقوق سے لاعلمی اور خاندانی تنازعے یا بدنامی کے خدشے کے باعث خاموش رہتے کو ترجیح دیتے ہیں جس بناء پر متاثرہ خواتین یا خاندان قانونی اداروں اور کورٹ کچہری سے رجوع کرنے پر آمادہ نہیں
اسی بناء پرحکومتی اداروں کے پاس اس مخصوص رسم کے بارے میں واضح اعداد و شمار بھی دستیاب نہیں
تو پھر اس صورتحال میں انتظامیہ کچھ کرنے سے بھی قاصر دکھائی دیتی ہے

مقامی عالم دین اللہ بخش کے مطابق علماء کرام اس رسم کو مناسب یا شرعی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں سمجھتے۔
ان کے مطابق نکاح پڑھاتے وقت انھیں ان چیزوں سے لاعلم رکھا جاتا ہے
علماء کرام مساجد دینی اجتماعات اور مقامی نشستوں میں والدین کو یہ ضرور سمجھانے کی بھر پور کوشیش کرتے رہتے ہیں کہ بچی کے مستقبل کو ایک خاندانی شرط کا پابند بنانے کے بجائے اس کی فلاح و بنیادی حقوق اور مستقبل کو ترجیح دینی چاہیے
لیکن بدقسمتی سے روایتوں سے جڑے پرانے خیالات کے حامل لوگ علماء کرام کی ان باتوں کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے لیت و لعل سے کام لیتے ہوئے نظر آتے ہیں

قبائلی معاشروں میں معتبرین اور بزرگوں کا سماجی اثر و رسوخ ایک اہم حقیقت ہے
بعض مقامی معتبرین اس رسم کو مناسب نہیں سمجھتے
قبائلی رہنما حاجی لعل خان کے مطابق بعض اچھے ننھیال والے اپنی بیٹی کو وہ لڑکی بخش دیتے ہیں
جبکہ اس رسم میں ایک گنجائش موجود ہے کہ بچی کے ماں باپ عمر کے حساب سے رقم ادا کرکے اپنی بچی کو اس رسم کی بھینٹ چڑھانے سے روک سکتے ہیں
لیکن یہ چیز غربت کے باعث ہر کسی کے دسترس میں نہیں
جبکہ مقامی سطح پر اس رسم کے خلاف آواز اٹھانے والے افراد کو سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے
اور اسی خاندانی دباؤ بزرگوں کے فیصلوں کی سماجی حیثیت روایتی سوچ اور معاشرتی تعلقات جیسے عناصر اس رسم کے خاتمے کی رفتار کو سست کر نے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
لیکن وہ پرامید ہیں کہ قبائلی نظام کے اندر باہمی اتفاق سے ایسے معاملات کی حوصلہ شکنی کی جا سکتی ہے
وہ مقامی سطح پر ایک اجتماعی عہد کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کے خواہشمند ہیں
کہ کسی بچی کے مستقبل کا فیصلہ اس کی پیدائش سے پہلے کسی شرط کے تحت نہیں کیا جائے اور ہر بچی کی تعلیم تحفظ اور قانونی حقوق کو اہمیت دی جائے
ان کے مطابق تبدیلی کا مؤثر راستہ وہ ہوگا جس میں مقامی قیادت اپنی سماجی حیثیت کو بچیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے استعمال کرے نہ کہ کسی نقصان دہ عمل کو صرف روایت کی بنیاد پر برقرار رکھے

ان علاقوں میں کام کرنے والی ڈاکٹر تہمینہ کے مطابق اس روایت / معاہدے کے تحت کافی لڑکیوں کی شادی کم عمری میں ہوتی ہیں
جس کے اثرات صرف اس بچی کی سماجی زندگی تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کی تعلیم سماجی تنہائی جسمانی صحت بلخصوص ذہنی کیفیت کو کافی متاثر کرتی ہیں
ان کے مشاہدات کے مطابق اس رسم کے تحت ہونے والی شادیاں لڑکیوں کی تعلیم سے دوری سماجی تنہائی اور ذہنی دباؤ کا سبب بنتی ہیں جبکہ بعض کیسز میں گھریلو تشدد مسلسل خوف شامل ہو نے سے نفسیاتی طور پر خودکشی کی کوشیشوں تک جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے
اس لیے بچیوں کے بہتر اور صحت مند مستقبل کے لیے کہ ضروری ہے کہ اس طرح کے رسموں کے تحت ہونے والی شادیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے

ہم سمجھتے ہیں کہ سندھ پنجاب اور بلوچستان کی سرحدی پٹی کے بعض علاقوں میں رائج اس روایت کی کہانی ایک ایسے سماجی تصور کو چیلنج کرتی ہے جس میں خاندانی وعدے بعض اوقات ایک لڑکی کی اپنی آواز سے زیادہ اہم سمجھے جا سکتے ہیں
ایک تعلیم یافتہ خاتون کی زندگی میں آنے والی تبدیلی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خاندانی فیصلے کسی لڑکی کے تعلیمی اور سماجی امکانات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں
بعض مقامی افراد اس رسم پر نظرثانی کی ضرورت بھی محسوس کرتے ہیں اور علماء و قبائلی معتبرین کے اندر بھی تبدیلی کی حمایت کرنے والی آوازیں بھی موجود ہیں
لیکن اس روایت کے مکمل خاتمے کے لیے انفرادی کوششوں کو اجتماعی عمل میں بدلنا ہوگا کیونکہ اس روایت کو بدلنے کی زمے داری پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے
اس بناء پرطبی ماہرین کو صحت کے خطرات واضح کرنے علماء کو آگاہی پیدا قبائلی معتبرین کو تبدیلی کی قیادت اور حکومت کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہوگا
جبکہ میڈیا کو شواہد کی بنیاد پر اس موضوع کو مسلسل اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل آگاہی کو مقامی سطح پر فروغ دیکر تعلیم مزہبی رہنمائی قانونی تحفظ اور قبائلی قیادت کے کردار سے جوڑنا بھی ہوگا
جس کے بعد کہی جاکر اس فرسودہ رسم کا ختم ہو سکے گا

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!